لاہور (لارڈ میڈیا): ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین آمنہ اور انمول کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں آزاد عدالتی ٹربیونل قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایچ آر سی پی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں خواتین کی ہلاکت سے متعلق سرکاری مؤقف اور اہل خانہ کے بیانات میں متعدد تضادات موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خواتین کو مبینہ چوری کے الزام میں 4 اگست کو حراست میں لیا گیا تھا اور چند گھنٹوں بعد ان کی موت ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر موت کو دل کا دورہ قرار دیا مگر حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹس ابھی تک سامنے نہیں آئیں۔ اہل خانہ نے خواتین کے جسموں پر چوٹوں کے نشانات دیکھنے کا دعویٰ کیا جبکہ سرکاری دستاویزات میں کسی چوٹ کا ذکر نہیں۔
ایچ آر سی پی نے پوسٹ مارٹم رپورٹس پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، اور پولیس کے غیر معمولی کنٹرول پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ خواتین کو منشیات استعمال کرنے والی قرار دیا گیا، مگر شواہد ان الزامات کی تائید نہیں کرتے۔
ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا کہ ٹربیونل آزاد فرانزک معائنہ، دوبارہ پوسٹ مارٹم، اور سی سی ٹی وی ریکارڈ کی تصدیق کرے۔ تنظیم نے خواتین کے اہل خانہ کو تحفظ اور قانونی معاونت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے کہا کہ معاملے میں موجود تضادات کے پیش نظر شفاف اور آزاد تحقیقات ضروری ہیں۔


