لندن (لارڈ میڈیا): امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں سستی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔
پیر کو ابتدائی کاروبار میں برینٹ خام تیل کی قیمت 88.55 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 14 سینٹ کمی کے بعد 82.26 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ ہفتے 5 فیصد سے زیادہ مہنگے ہوئے تھے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ آبنائے ہرمز میں ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے ٹینکرز اور سعودی آرامکو کی ریفائنری پر حملوں کے بعد ہوا۔ عالمی منڈی میں سب سے بڑی تشویش امریکا اور ایران کے درمیان مستقل معاہدے کے امکانات کم ہونے کی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کا اہم سمندری راستہ ہے جہاں بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بحری جہازوں کی آمدورفت سست ہونے سے سپلائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں کا رخ امریکا ایران مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔


