ہومتازہ ترینطالبان خطے کو غیر مستحکم کرنے کی پراکسی ہے: عاصم افتخار

طالبان خطے کو غیر مستحکم کرنے کی پراکسی ہے: عاصم افتخار

نیویارک (لارڈ میڈیا): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دیا جس میں افغانستان کو متعدد دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں پاکستان میں 5 ہزار 200 سے زائد دہشت گردی کے واقعات میں ایک ہزار 300 سے زیادہ افراد شہید ہوئے جبکہ 2026 کے پہلے 6 ماہ میں 3 ہزار سے زائد حملوں میں 830 سے زیادہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ اور داعش کے علاقائی گروہ کو پاکستان کے لیے اہم خطرات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان گروہوں میں سے بعض پاکستان کے مخالف عناصر کی پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں اور مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد چھوڑا گیا اسلحہ بھی عسکریت پسندوں کے استعمال میں آ رہا ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طالبان حکومت نے عالمی برادری کی تین بنیادی توقعات کو پورا نہیں کیا، جن میں جامع حکومت کا قیام، انسانی حقوق کا احترام، اور افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونا شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلاف طالبان کی پالیسیوں سے ہے اور طالبان کو ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے خلاف واضح اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں