ماسکو (شِنہوا) کمیونسٹ پارٹی آف رشین فیڈریشن (سی پی آر ایف) کے نائب چیئرمین دمتری نوویکوف نے کہا ہے کہ اگر گلوبل ساؤتھ کے ممالک تیز رفتار ترقی میں نمایاں پیش رفت کے لئے چین کے تجربے سے استفادہ کریں تو وہ اپنے داخلی چیلنجز سے زیادہ بہتر انداز میں نمٹ سکتے ہیں۔
نوویکوف نے حالیہ انٹرویو میں شِنہوا کو بتایا کہ ’’گلوبل ساؤتھ جتنی تیزی سے چین کے تجربے کی روشنی میں ترقی کرے گا، اتنی ہی جلد ہم ایک ایسی دنیا تشکیل دے سکیں گے جہاں تمام لوگ زیادہ اعتماد اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور ایک روشن مستقبل کو گلے لگا سکیں۔‘‘
نوویکوف نے کہا کہ چین ایسے ترقیاتی ماڈلز کے بارے میں جامع مکالمے کی حمایت کرتا ہے جو مختلف ممالک کے قومی حالات اور عالمی برادری کے مشترکہ مفادات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کا ترقیاتی تجربہ، بالخصوص عالمی معیشت میں گہری شمولیت کے باوجود مضبوط اقتصادی ترقی برقرار رکھنے کی اس کی صلاحیت، اس کی کامیابیوں کے پس پشت مضبوط ادارہ جاتی اور ترقیاتی منطق کو ظاہر کرتی ہے۔
نوویکوف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایسے تجربے سے سیکھنا اور اسے دوسرے ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالنا یقیناً قابل قدر ہے۔‘‘
کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کے کردار پر بات کرتے ہوئے نوویکوف نے کہا کہ اپنے 105 سالہ دور میں سی پی سی نے چینی عوام کی قیادت کرتے ہوئے چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کے حصول کے لیے جدوجہد کی ہے۔
نوویکوف نے غربت کے خاتمے اور عالمی ترقی میں سی پی سی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ منصفانہ اور مساوی بین الاقوامی تعلقات کے فروغ اور جامع عالمی ترقی کو آگے بڑھانے کے ذریعے پارٹی نے بین الاقوامی سطح پر ایک ناگزیر کردار ادا کیا ہے۔
چین کی کامیابیوں کے بنیادی عوامل پر گفتگو کرتے ہوئے نوویکوف نے سی پی سی کے خود اصلاحی کے عزم کو نمایاں قرار دیا۔
نوویکوف نے کہا کہ مسلسل اصلاحات اور ادارہ جاتی بہتری کی بنیاد پر قائم سی پی سی کی نظم و نسق کی صلاحیت اس کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے اور دیگر ممالک کی سیاسی جماعتوں کے لئے قیمتی اسباق پیش کرتی ہے۔


