وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان کا امیج دنیا میں امن کے پیامبر کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے، پورے ملک میں لیپ ٹاپ سو فیصد میرٹ کی بنیاد پر فراہم کئے جا رہے ہیں۔
انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور میں وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز ایک بہترین تعلیمی ادارہ ہے جو طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہا ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل نوجوان ملک و بیرون ملک مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 2013 میں نواز شریف نے لیپ ٹاپ سکیم کا آغاز کیا جو پورے ملک بشمول کشمیر و گلگت بلتستان کیلئے تھا ، یہ پروگرام 2018تک کامیابی سے جاری رہا تاہم 2018سے 2022تک اسے بند رکھا گیا، 2022میں پی ڈی ایم حکومت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اس پروگرام کو دوبارہ شروع کیا اور اسکی کامیابی کا راز خالص میرٹ ہے، آغاز سے اب تک ملک بھر کی جامعات میں لیپ ٹاپ میرٹ پر تقسیم کئے جا رہے ہیں، ادارے میں طالبات کی بھی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے جو ایک مثبت امر ہے، ملکی ترقی میں خواتین کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے، پاکستانی خواتین میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، انہیں صرف مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے، ہم سب پر فرض ہے کہ پاکستان کی ترقی و سلامتی کیلئے کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر نواز شریف نے ملکی سلامتی و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور مئی 1998میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد عالمی دبائو کے باوجود ایٹمی دھماکے کر کے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، مئی 2025میں پاک فوج اور پاکستانی قوم نے ملکر بھارت کی طاقت کو خاک میں ملا دیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے بڑی فوجی طاقت کو عبرت کا نشان بنایا، ہماری فوج اور قوم میں شہادت اور وطن سے محبت کا بے مثال جذبہ موجود ہے اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی، امریکہ ایران کشیدگی میں پاکستانی قیادت کے کردار کے باعث ملک کا تشخص عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے اور گرین پاسپورٹ کی قدر میں اضافہ ہوا ہے، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے میں کردار ادا کریگا۔
انہوں نے کہاکہ نوجوان خدمت کا جذبہ ہمیشہ زندہ رکھیں جو دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے ، دکھی انسانیت اور ملک کی خدمت کے مواقع ضائع نہ کئے جائیں کیونکہ اسی میں ذہنی سکون ہے اور انکی اپنی سیاست کا بنیادی مقصد بھی دکھی انسانیت کی خدمت ہے۔


