امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں زبردست مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، تیل کی قیمتیں بھی گر گئیں جبکہ سٹاک مارکیٹس میں بھی نمایاں تیزی آئی۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو موثر طور پر بند کر دیا تھا جس سے عالمی منڈیاں شدید دبائو کا شکار ہو گئی تھیں، جنگ بندی کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 16.5فیصد کم ہو کر 94ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہیں، ایس اینڈ پی 500فیوچرز میں 2فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ اڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی، سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری سے نکل کر دوبارہ حصص بازار کا رخ کر لیا ہے۔
میڈیا کے مطابق ماہر مالیات جیمی کاکس کا کہنا تھا منڈیاں پہلے ہی اس بات کی توقع کر رہی تھیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران تنازع سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں اور حالیہ اعلان اسی سمت اہم پیشرفت ہے، ایشیاء کی سٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی کے آثار ظاہر ہوئے ہیں جبکہ امریکی 10سالہ ٹریژری بانڈز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔


