ہومتازہ ترینتیانجن میں شپنگ انڈسٹری ایکسپو، مصنوعی ذہانت کے نئے امکانات سامنے آ...

تیانجن میں شپنگ انڈسٹری ایکسپو، مصنوعی ذہانت کے نئے امکانات سامنے آ گئے

چوتھی تیانجن انٹرنیشنل شپنگ انڈسٹری ایکسپو (ٹی آئی ایس آئی ای) منگل کے روز چین کے شمالی شہر تیانجن میں شروع ہوئی جس میں جہازرانی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔

شپنگ ٹو دی ورلڈ اور اے آئی کی قیادت میں بندرگاہوں اور جہازرانی کی ترقی کے نئے مواقع کی سمت سفر” کے موضوع پر منعقدہ یہ چار روزہ نمائش ماحول دوست جہازرانی، سمندری آلات، لاجسٹکس سروسز اور دیگر شعبوں پر محیط تھی۔

اجلاس کے شرکاء نے چین کی سمندری چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو سراہا اور کہا کہ اس کا مضبوط انفراسٹرکچر، پائیدار صنعتی نظام، تکنیکی جدت اور عالمی رسائی غیر یقینی صورتحال میں بھی ایک مستحکم قوت کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وقاص صمد نے کہا کہ” چین آج کے جہازرانی کے نظام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔یہ صرف وسعت اور انفراسٹرکچر کی ہی عکاسی نہیں کرتا بلکہ جہازرانی کے مستقبل کی وہ اہم علامت بھی ہے جہاں رابطہ، ٹیکنالوجی اور ذہانت ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔“

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): وقاص صمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر، لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس

”ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت بحری جہازوں کو زیادہ اسمارٹ بنا رہی ہیں جس سے کارگو ترسیل کے عمل میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔حتیٰ کہ تجارتی مالیاتی نظام میں بھی مزید آسانیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ بندرگاہوں میں خودکار کرینز، خودکار یارڈ گاڑیاں، پیشگی اندازے پر مبنی لاجسٹکس سسٹمز اور حقیقی وقت میں ٹریفک کی بہتر تنظیم کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ یقیناً اس میدان میں چین بالخصوص چین کا علاقہ تیانجن قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہم مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کو دیکھ رہے ہیں جس کے نتیجے میں بندرگاہیں مکمل طور پر خودکار کنٹینر ٹرمینلز بنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ خودکار نظاموں، مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی اور جدید تجزیوں کے ذریعے آپریشنل کارکردگی اور رابطے کو نئی سطح پر لے جایا جائے گا۔“

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): تھامس سم، صدر، انٹرنیشنل فیڈریشن آف فریٹ فارورڈرز ایسوسی ایشنز

”مصنوعی ذہانت ہماری صنعت کی عملی طور پر اور بھرپور قوت کے ساتھ تشکیل نو کرے گی۔ طلب کی پیشگوئی اور صلاحیت کی منصوبہ بندی کو اے آئی بہتر بنا سکتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تعاون ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اب حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، صنعتی تنظیموں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں سمیت سب کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ تنہا کوئی بھی فریق عالمی تجارت کو ڈیجیٹلائز نہیں کر سکتا۔“

ٹی آئی ایس آئی ای کا انعقاد سال2023 سے ہر سال تیانجن میں کیا جا رہا ہے تاکہ جہازرانی کے شعبے میں عالمی تعاون، صنعتی سرمایہ کاری اور تجارتی تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔

تیانجن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں