ہومانٹرنیشنلپھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کی پیشگی نشاندہی کرنے والی خون کی...

پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کی پیشگی نشاندہی کرنے والی خون کی ابتدائی علامت دریافت

میلبورن (شِنہوا) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خون میں پائی جانے والی ایک مخصوص "حیاتیاتی علامت” پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص سے پانچ سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل اس بیماری کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتی ہے، جس سے بروقت روک تھام کے نئے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

یہ نتائج سائنسی جریدے سیل میں شائع ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا کے والٹر اینڈ الیزا ہال انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ (ڈبلیو ای ایچ آئی) کی جانب سے جمعہ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دریافت ایسے افراد کی نشاندہی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص سے پہلے ہی احتیاطی ادویات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تحقیق کے دوران خون کے 48 ہزار سے زائد نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں 14 پروٹینز پر مشتمل ایک مخصوص حیاتیاتی علامت دریافت ہوئی جو اگلے پانچ برسوں کے اندر پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دریافت کی تصدیق 8 بین الاقوامی ڈیٹا سیٹس میں بھی کی گئی، جن میں غیر تمباکو نوش افراد بھی شامل تھے۔

محققین کے مطابق یہ علامت خود سرطان زدہ رسولی سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ پھیپھڑوں میں سوزش پر مبنی ایک ایسے تبدیل شدہ ماحول کی عکاسی کرتی ہے جو کینسر کے ظاہر ہونے سے پہلے موجود ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیماری کے آغاز سے قبل ایک ایسا مرحلہ موجود ہوتا ہے جس میں مداخلت اور روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ پھیپھڑوں کا کینسر اب بھی دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ موجودہ سکریننگ پروگرام عموماً عمر رسیدہ اور سگریٹ نوشی کی تاریخ رکھنے والے افراد تک محدود ہیں، جس کے باعث بہت سے مریضوں میں بیماری کی تشخیص آخری مراحل میں ہوتی ہے۔

ڈبلیو ای ایچ آئی کی لیبارٹری سربراہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ کلیر ویڈن نے کہا کہ یہ تحقیق آسٹریلیا اور دنیا بھر میں زیادہ جامع اور موثر سکریننگ نظام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ نتائج ہمیں ایسے مستقبل کے قریب لے آتے ہیں جہاں کینسر کے پیدا ہونے سے پہلے ہی ابتدائی مداخلت ممکن ہو سکے گی۔”

ویڈن نے یہ تحقیق برطانیہ کے فرانسس کرک انسٹی ٹیوٹ میں اپنے قیام کے دوران انجام دی تھی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں