چین کے جنوب مغربی صوبے یوننان کے شہر کونمنگ میں ’’2026 دیان چھی انٹرنیشنل کافی کلچر کارنیوال‘‘ کا تیسرا ایڈیشن اس وقت جاری ہے۔
یکم سے 9 اگست تک جاری رہنے والے رواں برس کے اس ایونٹ میں اعلیٰ معیار کی کافی، سرحد پار ثقافتی تبادلے، پائیدار ترقی، براہِ راست فنی پرفارمنسز اور کھلی فضا میں تفریحی سرگرمیوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
پاکستان، سوئٹزرلینڈ، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے نمائش کنندگان دیان چھی جھیل کے کنارے جمع ہیں جہاں وہ اپنی کافی کی منفرد آمیزشیں اور علاقائی خصوصیات کی حامل مصنوعات پیش کر رہے ہیں۔
شرکا ایک دوسرے کے ساتھ خیالات کا تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری مواقع بھی تلاش کر رہے ہیں جس سے اس کارنیوال کے کھلے پن اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ کے عزم کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): وکٹر گیروسا، سوئس نمائش کنندہ
’’میں سوئٹزرلینڈ سے ہوں۔ میں سال 2017 میں کونمنگ آیا کیونکہ ایک دوست نے بتایا تھا کہ یہ بہت خوبصورت جگہ ہے۔ اب میں یہیں آباد ہوں۔ ہم گزشتہ برس بھی یہاں آئے تھے۔ میرے خیال میں یہ جگہ بہت دلچسپ، نہایت پُرجوش اور لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں بہت سے نئے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملتا ہے۔ یہ واقعی بہت اچھی جگہ ہے۔ یہ نہ صرف کاروبار کرنے بلکہ اپنی بیئر سب کے سامنے متعارف کرانے کا بھی بہترین موقع ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): سوتھیتا کانتھارِن، تھائی نمائش کنندہ
’’میں واقعی اس جگہ کو بہت پسند کرتی ہوں۔ مجھے اس جگہ سے محبت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہر سال یہاں آتی ہوں۔ میرے خیال میں جب بھی میں یہاں آتی ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم صرف کافی کے دانوں کا ہی تبادلہ نہیں کرتے بلکہ توانائی، جذبوں اور ثقافت کا بھی تبادلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے چیانگ مائی اور یوننان ایک دوسرے کے بہت قریب محسوس ہوتے ہیں۔ جب ہم اپنی کافی آپس میں بانٹتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھنے لگتے ہیں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): وِتواس جیک، تھائی نمائش کنندہ
’’میرا تعلق تھائی لینڈ سے ہے۔ میں اس وقت چیانگ مائی میں رہتا ہوں۔ میں یہاں ’تھائی چائے‘ لے کر آیا ہوں۔ میں چاہوں گا کہ چین کے لوگ بھی اس چائے کا ذائقہ چکھیں۔ مجھے اس کارنیوال میں شرکت کا تیسری بار موقع ملا ہے۔ حقیقت ہے کہ یہ اب تک سب سے بہترین تجربہ رہا ہے۔ مجھے یوننان اس لئے بھی پسند ہے کیونکہ یہاں کا موسم مجھے اچھا لگتا ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): عبید اللہ، پاکستانی نمائش کنندہ
’’ہم یہاں چینی ثقافت کو جاننے آئے ہیں۔ یہاں ہمیں ایک دوسرے کی ثقافت سے سیکھنے اور باہمی ثقافتی تبادلے کا موقع ملتا ہے جس سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اچھے، مضبوط روابط اور خوشگوار تعلقات استوار ہوتے ہیں۔‘‘
کونمنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


