ہومتازہ ترینچین نے اعلیٰ معیار اور پائیدار ترقی کے ذریعے معاشی اہداف حاصل...

چین نے اعلیٰ معیار اور پائیدار ترقی کے ذریعے معاشی اہداف حاصل کئے، عالمی ماہرین کی رائے

چین نے سال 2026 کے لئے مجموعی قومی پیداوار جی ڈی پی کی شرح نمو 4.5 سے 5 فیصد تک کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اس کی کوشش ہے کہ عملی طور پر اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھائی جائے۔

یہ ہدف مقدار کے تقاضوں کو معیاری دائرہ کار میں شامل کرتے ہوئےاعلیٰ معیار کی ترقی کی طرف واضح سمت کو ظاہر کرتا ہے۔

جی ڈی پی شرح نمو کے یہ اہداف چین کی معاشی سمت اور عالمی معیشت کے لئے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ جاننے کے لئے ہم نے عالمی ماہرین اور کاروباری رہنماؤں سے گفتگو کی ہے۔

کیپشن:

4.5 سے 5 فیصد تک شرح نمو ایک مناسب اور صحت مند ہدف کیوں ہے

دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے لئے یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ اتنے بڑے معاشی حجم پر مستحکم ترقی کو برقرار رکھ سکے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ہدف حقیقت پسندانہ بھی ہے اور مضبوط بھی۔

ساؤنڈ بائٹ 1(انگریزی): آصف ایس چیمہ، کنٹری ڈائریکٹر برائے چین، ایشیائی ترقیاتی بینک

"جیسے جیسے معیشت نمو پاتی ہے، اس کے پسِ پردہ ایک بہت بڑی بنیاد ہوتی ہے۔ لہٰذا 4.5 سے 5 فیصد کا ہدف بھی ایک صحت مند ترقی ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت ہی مناسب ہدف ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ریبیکا فاطمہ اسٹا ماریا، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایپک سیکرٹریٹ

"آپ جس قدر زیادہ ترقی کرتے ہیں اس کی بنیاد اتنی ہی مختلف ہو جاتی ہے۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ یہ ایک حقیقت پسندانہ شرح نمو ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): سیپو ایہالینن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایکوگرڈ انرجی ایشیا

"4.5 سے 5 فیصد تک جی ڈی پی کی شرح نمو دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں اب بھی کافی زیادہ ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر چین یہ ہدف حاصل کر لیتا ہے تو ایسا مجموعی طور پر معیشت کے لئے خوش آئند ہوگا۔”

کیپشن:

رفتار سے آگے معیاری ترقی کا مطلب کیا ہے

اس ہدف کا صرف یہی مطلب نہیں کہ چین کتنی تیزی سے ترقی کرتا ہے بلکہ اس حوالے سے بھی ہے کہ وہ کس قدر بہتر انداز میں ترقی کرتا ہے۔ ماہرین جدت پسندی، بہتر معیارِ زندگی اور زیادہ پائیدار ترقی کی طرف منتقلی کو اجاگر کرتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): ایڈورڈو پیڈروسا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایپیک سیکرٹریٹ

"چین ایک بڑی معیشت ہے۔ جیسے جیسے ہم زیادہ معیاری ترقی کے دور میں داخل ہوتے ہیں تو تعلیم اور صحت سمیت ایسے شعبے ابھر کر سامنے آئیں گے جہاں عوام کو اعلیٰ معیار کے فوائد ملیں گے اور ترقی بھی زیادہ تر کھپت پر مبنی ہوگی۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 5 (انگریزی): شو جِنگ جِنگ، جنرل پارٹنر، فیول وینچرز

"جدت ایک بنیادی محرک ہے جو مصنوعی ذہانت، صنعتی پیداوار، ماحول دوست توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ظاہر ہوتا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 6 (انگریزی): ڈینس ڈیپوکس، گلوبل منیجنگ ڈائریکٹر، رولینڈ برگر

"صنعتی پیداوار کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ اب اعلیٰ معیار کی بیش قیمت مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں جو پیداوار اور کھپت دونوں کو بہتر بناتی ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 7 (انگریزی): سیپو ایہالینن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایکو گرِڈ ڈاٹ انرجی ایشیا پی ٹی ای لمیٹڈ

"چین محض پیداوار ہی میں بہتری نہیں لاتا بلکہ یہ کھپت کے نئے انداز بھی تخلیق کرتا ہے۔”

کیپشن:

چین اپنے ہدف کیسے حاصل کرتا ہے۔ اصلاحات، سرمایہ کاری اور اندرونی محرکات

ماہرین کہتے ہیں کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کا دارومدار پالیسی اصلاحات، مقامی سرمایہ کاری اور جدت پر مبنی صنعتی ترقی پر ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 8 (انگریزی): آصف ایس چیمہ، کنٹری ڈائریکٹر برائے چین، ایشیائی ترقیاتی بینک

"مناسب اصلاحات کے حکومتی عزم اور ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ترقی کا سلسلہ آئندہ کئی برسوں تک جاری رہ سکتا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 9 (انگریزی): جیکب شوائس ہلم،سربراہ، ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ، ہولورائیڈ ٹیکنالوجیز یورپ جی ایم بی ایچ

"میں سمجھتا ہوں کہ کھپت، برآمدات اور سرمایہ کاری تینوں ہی بہت اہم ہیں۔”

ساؤنڈ بائٹ 10(انگریزی): سیپو ایہالینن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایکو گرِڈ ڈاٹ انرجی ایشیا پی ٹی ای لمیٹڈ

"میرا خیال ہے کہ یہ سرمایہ کاری اور صنعتی جدت کا امتزاج ہے۔ ایسا خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور توانائی کی ترقی کے شعبوں میں ہے۔”

کیپشن:

لمبے عرصے کے اہداف اور عالمی اثرات

یہ ہدف چین کے طویل مدتی وژن سے بھی ہم آہنگ ہے۔

چین سال 2035 تک اپنی فی کس جی ڈی پی کو تقریباً 20 ہزار امریکی ڈالر تک دگنا کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اسے اپنی سالانہ شرح نمو اگلی دہائی میں اوسطاً 4.17 فیصد کرنا ہو گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس سطح پر مستحکم اور اعلیٰ معیاری نمو سےنہ صرف داخلی ترقی کو سہارا ملتا ہے بلکہ یہ عالمی استحکام میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 11(انگریزی): گولڈی ہائیڈر، صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر، بزنس کونسل آف کینیڈا

"کاروباروں کو پالیسی اور تجارت کے ایسےمضبوط ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے جو سپلائی چین میں استحکام لائے اور

منڈیوں تک بغیر کسی محصول یا ٹیکس کے آپ کو رسائی کی سہولت فراہم کرے۔”

ساؤنڈ بائٹ 12(انگریزی): سیپو ایہالینن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایکو گرِڈ ڈاٹ انرجی ایشیا پی ٹی ای لمیٹڈ

"عالمی ترقی کو مضبوط کرنا اور دنیا کو زیادہ پُرامن بنانا ہی درست سمت ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 13(انگریزی): شو جِنگ جِنگ، جنرل پارٹنر، فیول وینچرز

"چین نے عالمی جدت کو مقامی صلاحیتوں سے مربوط کر کے مضبوطی حاصل کی جس نے غیر یقینی صورتحال کو طویل مدتی مواقع میں بدل دیا ہے۔”

بیجنگ/بوآؤ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چین نے سال 2026 کے لئے جی ڈی پی کا نیا ہدف مقرر کر دیا

ماہرین 4.5 سے 5 فیصد تک کے ہدف کو حقیقت پسندانہ قرار دے رہےہیں

ماہرین کے مطابق ہدف معیاری، پائیدار اور صحت مند ترقی کا عکاس ہے

ایک بڑا حجم رکھنے والی عالمی معیشت کے لئے اس ہدف تک پہنچنا آسان ہو گا

چین نے ترقیاتی حکمت عملی میں معیار، جدت اور پائیداری کو ترجیح دی

اعلیٰ معیار والی بیش قیمت مصنوعات چین کی پہچان ہیں

چین پیداوار بڑھاتے ہوئے کھپت کے نئے مواقع تخلیق کر رہا ہے

ہدف کی تکمیل اصلاحات، مقامی سرمایہ کاری اور صنعتی جدت پر منحصر ہے

چین کی مستحکم داخلی ترقی عالمی استحکام میں بھی مددگار ثابت ہو گی

عالمی جدت اور مقامی صلاحیتوں کے امتزاج سے طویل مدتی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں