بیجنگ (شِنہوا) چین کی ریاستی کونسل کے جنرل آفس نے ایک دستاویز جاری کی ہے جس کا مقصد نجی سرمایہ کاری فنڈز کی نگرانی مضبوط بنانا، مالیاتی خطرات روکنا اور اس شعبے کو بہتر انداز میں فروغ دینا ہے۔
نئی ہدایات کے تحت نگرانی کا نظام جدید بنانے سمیت موجودہ کمزوریاں دور کی جائیں گی اور مختلف سرکاری محکموں کے درمیان باہمی تعاون بڑھایا جائے گا۔
ہدایات کے مطابق نجی سرمایہ کاری فنڈز کی صنعت میں نظم و ضبط، بہتری اور استحکام لانے کے لئے غیر قانونی اور خلاف ورزی کرنے والی بڑی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ان ہدایات میں نجی سرمایہ کاری فنڈز کے قوانین کا نظام بہتر بنانے اور حکومتی سرمایہ کاری فنڈز اور سرکاری ملکیتی اداروں کے سرمایہ کاری فنڈز پر نگرانی مضبوط کرنے کے لئے ٹھوس انتظامات وضع کئے گئے ہیں۔
چین کے نجی سرمایہ کاری فنڈز اس وقت 230 کھرب یوآن (33.8 کھرب امریکی ڈالر) مالیت کے اثاثوں کا انتظام سنبھال رہے ہیں، جو ملک کے اثاثہ جات کے انتظام کے مجموعی کاروبار کا 15 فیصد بنتا ہے۔
طویل مدتی سرمایہ کاری کے ایک اہم ذریعے کے طور پر پرائیویٹ ایکویٹی (پی ای) اور وینچر کیپیٹل فنڈز (وی سی) نے نئی معیشت کے شعبے میں ایک لاکھ سے زائد منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے جس کا اصل زر 47 کھرب یوآن تک پہنچتا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت طرازی کے بورڈ میں درج تقریباً 90 فیصد کمپنیوں نے ابتدائی عوامی پیشکش سے پہلے پی ای اور وی سی فنڈز سے مالی مدد حاصل کی تھی۔
نجی سیکیورٹیز انویسٹمنٹ فنڈز اب چین کے اے-شیئر مارکیٹ کے کل تجارتی حجم کا 10 سے 20 فیصد حصہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ سرمایہ کی منڈی متحرک کرنے اور سرمایہ کاری کا ڈھانچہ بہتر بنانے میں ایک اہم قوت بن گئے ہیں۔


