ہومتازہ ترینچین مصنوعی ذہانت میں سب سے آگے ہے، سربیئن وزیر

چین مصنوعی ذہانت میں سب سے آگے ہے، سربیئن وزیر

بلغراد (شِنہوا) سربیا کے وزیر اطلاعات و ٹیلی کمیونیکیشنز بوریس براتینا نے کہا ہے کہ چین مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں عالمی قیادت کر رہا ہے، عالمی سطح پر اے آئی نظم ونسق کو فروغ دے رہا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کو کم لاگت پر ماحول دوست اور ڈیجیٹل بنیادی سہولت فراہم کر رہا ہے۔

براتینا نے حال ہی میں شِنہوا کو دیئے گئے ایک تحریری انٹرویو میں کہا کہ حالیہ برسوں میں چین کی تکنیکی ترقی غیر معمولی رہی ہے جو مختلف شعبوں میں اس کی تیز رفتار جدت کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 6 جی مواصلات، مصنوعی ذہانت، صاف توانائی اور خلائی ٹیکنالوجی جیسے جدید شعبوں میں چین کی نمایاں کامیابیوں نے اس کی معاشی ترقی کو نئی رفتار دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا مصنوعی ذہانت میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت سے حیران ہے جبکہ چین نے مشین لرننگ اور قدرتی زبان کی پراسیسنگ میں مسلسل اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق ان پیش رفتوں نے مختلف صنعتوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دیا ہے جبکہ انسان نما روبوٹس اور خودکار گاڑیوں جیسے جدید شعبوں میں بھی چین کی جدت نمایاں ہے۔

براتینا نے کہا کہ اس شعبے میں چین منفرد اور دور اندیش کردار ادا کر رہا ہے، جس کی مثال اس کا عالمی اے آئی گورننس اقدام اور کم لاگت پر ماحول دوست و ڈیجیٹل بنیادی سہولت کی بڑے پیمانے پر برآمد ہے۔

انہوں نے ہائی ٹیک جدت اور ماحول دوست ترقی میں چین کی پیش رفت کو بھی سراہا اور کہا کہ خاص طور پر شمسی توانائی اور برقی گاڑیوں کے شعبوں میں چین نے پائیدار ترقی کے لئے دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔

سربیا کے وزیر نے کہا کہ چاند پر تحقیق کے مشنز سمیت خلائی شعبے میں چین کی بڑی کامیابیاں اس کی مضبوط اختراعی صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تجرباتی جدید سپر کنڈکٹنگ ٹوکامک، چھیان فان سیٹلائٹ نیٹ ورک اور چاند پر تحقیق کے مشنز میں چین کی کامیابیوں سے بے حد متاثر ہوں۔

براتینا کے مطابق چین کی سائنسی اور تکنیکی کامیابیاں عالمی نظم و نسق میں بھی تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اب غریب ممالک کی پہنچ میں بھی آ رہی ہے جبکہ شمسی پینلز، ہوا سے چلنے والے ٹربائنز اور بیٹریوں کی بڑے پیمانے پر چینی پیداوار اور جدت نے دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کی لاگت نمایاں طور پر کم کر دی ہے۔

دوطرفہ سائنسی و تکنیکی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سربیا اور چین کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کا تعاون تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور یہ تعاون روایتی بنیادی شہری سہولتوں سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، برقی گاڑیوں اور صاف ٹیکنالوجی جیسے نئے شعبوں تک پھیل چکا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں