اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف پنجاب حکومت کی ضمانت منسوخی کی درخواست نمٹا دی۔ عدالت نے محمد خان بھٹی کی ضمانت منسوخی کی اپیل بھی خارج کر دی۔
پی ٹی آئی کے رہنما پرویز الہٰی غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے مؤقف دیا کہ ملزمان 18 مرتبہ التوا حاصل کر چکے ہیں اور ٹرائل میں پیش نہیں ہو رہے۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ملزمان ٹرائل کورٹ میں کیوں پیش نہیں ہو رہے؟ ملزمان کے وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ پراسیکیوشن کے دعوے حقائق کے برعکس ہیں، پرویز الہٰی ایک سال جیل میں رہے ہیں اور ابھی تک چارج فریم نہیں ہوا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شواہد پیش کرنا پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے، تاہم عدالت میں ملزمان کی حاضری لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہوتے تو متعلقہ عدالت ان کی ضمانت خارج کر سکتی ہے۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر کیس کی سماعت مکمل کرے۔


