واشنگٹن (لارڈ میڈیا): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا اور ایران نے حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد حملوں میں وقفہ کیا ہے اور سفارتی رابطے دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام، جنگ کے بعد کی صورت حال، لبنان میں حزب اللہ کے معاملے اور خطے میں سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ نیتن یاہو ایران کی جوہری اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق نئی معلومات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
لبنان کا معاملہ بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلاف کی ایک وجہ بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیلی افواج کے لبنان سے انخلا پر زور دے رہی ہے، جب کہ نیتن یاہو حزب اللہ کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے واپسی کے مخالف ہیں۔
اس کے علاوہ ترکی کو جدید ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت اور سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کے معاملات بھی ملاقات میں زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ان اقدامات سے خطے میں اس کی عسکری برتری متاثر ہو سکتی ہے۔
نیتن یاہو ایسے وقت میں واشنگٹن پہنچے ہیں جب اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے باعث ان پر سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کو اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر تنقید کا بھی سامنا ہے، جب کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بھی بعض معاملات پر اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفہ کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔


