ہوماہم ترینوفاقی آئینی عدالت میں وکلا کے دلائل کی مدت محدود ہوگی

وفاقی آئینی عدالت میں وکلا کے دلائل کی مدت محدود ہوگی

اسلام آباد (لارڈ میڈیا) چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت میں وکلا کے دلائل کا دورانیہ 10 منٹ تک محدود کر دیا ہے تاکہ مقدمات کی سماعت میں تیزی لائی جا سکے۔ عدالت نے اس مقصد کے لیے کمرہ عدالت میں اسٹاپ واچ نصب کر دی ہے جو مقررہ وقت پورا ہونے پر بیپ کی آواز دے گی۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کیسز جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق اس وقت 23 ہزار 409 مقدمات زیر التوا ہیں، جبکہ 5 ہزار 869 نمٹائے جا چکے ہیں۔ عدالت نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی ادارہ جاتی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

15 ستمبر کو چیف جسٹس کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں عدالت کے پہلے 10 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عدالتی اور انتظامی امور پر غور کیا گیا اور ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی آئینی عدالت کا قیام نومبر 2025 میں 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عمل میں آیا۔ جسٹس امین الدین خان نے 14 نومبر 2025 کو پہلے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے جج اور لاہور ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں