لاہور (لارڈ میڈیا): لاہور میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی آذربائیجان کی خاتون نے ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا ہے۔ آذربائیجان کی خاتون ڈیانا نے نئے ویڈیو بیان میں کہا کہ تنویر نے کسی قسم کی زیادتی نہیں کی، سمجھ نہیں آرہا کہ پولیس نے تنویر کو کس بنیاد پر گرفتار کیا۔
خاتون نے دیگر دو ملزمان محسن اور عزیر کو بھی معاف کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ معاملہ مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتی۔ ڈی آئی جی ذیشان رضا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر متاثرہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کروا کر کیس کی تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ذیشان رضا کے مطابق متاثرہ لڑکی عدالت میں تین ملزمان کے خلاف زیادتی کا بیان دے چکی ہے اور دو گرفتار ملزمان بھی تیسرے ملزم احمد تنویر کے ملوث ہونے کا اعتراف کرچکے ہیں۔
مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نامزد ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی۔ عدالت کے احاطے میں پولیس اور ملزم کے ساتھیوں میں تلخ کلامی اور دھکم پیل کے دوران پولیس نے ملزم اور اس کے ساتھیوں کو تھانے منتقل کر دیا۔
ڈیانا کا اصرار ہے کہ اسے آذربائیجان نہیں جانا، بلکہ کسی تیسرے ملک بھیج دیا جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔


