اسلام آباد (لارڈ میڈیا): پاکستان میں پہلی بار انسانی پلیسنٹا کی مبینہ اسمگلنگ کا کیس سامنے آیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کو پکڑا گیا ہے جو اسپتالوں سے انسانی پلیسنٹا حاصل کر کے اسے پراسیس کر کے بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پلیسنٹا کی اسمگلنگ کا ایسا بڑا کیس سامنے آیا ہے، جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور طبی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
پلیسنٹا، جو ماں کے جسم سے بچے تک آکسیجن اور غذائی اجزاء پہنچاتا ہے، طبی فضلہ سمجھا جاتا ہے، مگر دنیا بھر میں اس کی مانگ موجود ہے۔ بعض ممالک میں اسے مقدس تصور کر کے دفن کیا جاتا ہے جبکہ جدید معاشروں میں اسے بیوٹی پراڈکٹس میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ایف آئی اے کی ایف آئی آر کے مطابق، ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو انسانی اعضاء کے کاروبار کے متعلق معلومات ملنے پر کارروائی کی گئی۔ تفتیش میں گرفتار افراد نے اعتراف کیا کہ وہ پلیسنٹا کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کے لئے بیرون ملک اسمگل کرنا چاہتے تھے۔
پاکستان کے ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت انسانی جسم کے کسی بھی عضو کی خرید و فروخت ممنوع ہے۔
چین اور ویتنام میں انسانی پلیسنٹا کی مانگ بہت زیادہ ہے، جہاں یہ مختلف اشیاء و ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر بین الاقوامی ادارے پلیسنٹا کو ‘پیتھولوجیکل ویسٹ’ قرار دیتے ہیں، جسے محفوظ طریقے سے تلف کرنا ضروری ہے۔


