بیروت (لارڈ میڈیا): حزب اللہ نے امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ مسترد کردیا ہے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بیان میں کہا کہ یہ ‘فریم ورک معاہدہ’ لبنان کی خود مختاری کے خلاف ہے اور اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ اس معاہدے سے لبنانی علاقوں کے اسرائیل میں ضم ہونے کا خدشہ ہے اور لبنان سے اسرائیلی انخلا کو مزاحمتی گروپوں کو غیرمسلح کرنے سے مشروط کرنا خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سہہ فریقی فریم ورک معاہدہ لبنانیوں کے لیے ملکی خودمختاری سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد اس معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں، اور ایران امریکا ڈیل کے تحت ہوئے معاہدے پر عمل ہونا چاہیے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی موجودگی میں ہونے والے معاہدے میں حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے۔
معاہدے کے بعد لبنان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، جہاں بیروت سمیت کئی شہروں کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ٹائر جلا کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔


