کراچی (لارڈ میڈیا) گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری ہڑتال سے ملک میں صنعتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ خام مال کی قلت پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے صنعتی خام مال کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے، جس سے صنعتوں کی فعالیت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمد کنندگان کو بندرگاہوں پر موجود کنٹینرز پر بھاری ڈیمرجز کا سامنا ہے اور حکومت سے ان ڈیمرجز کی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مفاہمت کرانے کے لیے تیار ہے کیونکہ طویل ہڑتال سے صنعت، تجارت اور معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے نظام پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری برادری کے درمیان فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا قابلِ عمل حل نکالا جائے تاکہ مال برداری کا نظام بحال ہوسکے اور بندرگاہوں پر پھنسے درآمدی کنٹینرز کی کلیئرنس ممکن بنائی جاسکے۔


