کراچی (لارڈ میڈیا): کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو میڈیکو لیگل افسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہیں اب انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔
اسپتال حکام نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین غلطیوں اور غفلت برتنے پر برطرف کیا گیا ہے۔ جناح اسپتال میں وہ میڈیکو لیگل افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اسامہ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے، جہاں ان سے میر رضا کے پوسٹ مارٹم میں پائی جانے والی مبینہ غلطیوں پر سوالات کیے جائیں گے۔ کمیٹی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کا جائزہ لے گی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اعتراف کیا کہ میر رضا کیس میں کوتاہیاں ہوئیں، اور کہا کہ میڈیکو لیگل افسر سے بھی کوتاہی ہوئی۔ تحقیقات جاری ہیں اور میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔
میر رضا کی لاش 28 جولائی کو کراچی میں لاپتہ ہونے کے بعد گلستان جوہر سے ملی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے اور گولی پیچھے کی طرف سے لگی تھی۔
تحقیقات کے دوران 17 سیمپل حاصل کیے گئے اور ڈی این اے میچنگ کے لئے والدین کے سیمپل بھی لیے گئے۔ میر رضا کو 8 اگست کو دوبارہ سپرد خاک کیا گیا۔


