کراچی (لارڈ میڈیا) ریڈ لائن منصوبے کے دوران مبینہ حفاظتی غفلت کے باعث شہری کی ہلاکت پر جاں بحق شہری کے بیٹے نے 17 کروڑ روپے سے زائد ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا۔ دعوے میں سندھ حکومت، ملیر کنٹونمنٹ بورڈ، پراجیکٹ ڈائریکٹر ریڈ لائن اور کانٹریکٹر کو فریق بنایا گیا ہے۔
سینیئر سول جج ملیر کی عدالت میں وکیل درخواست گزار عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ رواں برس جنوری میں شہری شہریار، اہلیہ اور بچے کے ہمراہ جناح ایوینیو کے قریب سڑک کے درمیان بیریئر سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں شہری جاں بحق جبکہ اہلیہ اور بچہ زخمی ہوئے۔
عثمان فاروق نے عدالت کو بتایا کہ سڑک کے درمیان رکھے بیریئرز پر ریفلیکٹرز یا وارننگ سائن نہیں تھے اور اسٹریٹ لائٹس کی عدم موجودگی کے باعث رات کے وقت بیریئر نظر نہیں آیا، حادثہ ریڈ لائن منصوبے کے دوران غفلت اور ناقص حفاظتی انتظامات کی وجہ سے پیش آیا۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے محفوظ راستہ اور حفاظتی انتظامات ذمہ داران کی بنیادی ڈیوٹی تھی، خاندان کے واحد کفیل کی موت انتظامیہ کی غفلت کے باعث ہوئی، لہٰذا فریقین کو 17 کروڑ 21 لاکھ 20 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔


