غزہ سٹی (لارڈ میڈیا): فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔ حماس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ حماس اور دیگر دھڑوں نے ثالثوں کو معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے اور دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے اپنی آمادگی سے آگاہ کر دیا ہے، بشرطیہ کہ اسرائیل اس کی منظوری دے اور معاہدے پر عملدرآمد شروع کرے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ حماس امریکی انتظامیہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ اسے معاہدے کی پاسداری اور دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت پر مجبور کیا جا سکے۔ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے حماس کی جانب سے منصوبے کے تحت غیرمسلح ہونے پر رضامندی کو اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے بورڈ آف پیس کی جانب سے پیش کیے گئے "مسودے” سے اتفاق نہیں کیا۔ نیتن یاہو نے بورڈ آف پیس کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولائے ملادینوف سے ملاقات کے بعد کہا کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیرمسلح ہونے کے بعد ہی غزہ سے انخلا کرے گا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے بھی حماس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جیسے ہی غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج واپس چلی جائیں گی اور بین الاقوامی استحکام فورس فلسطینی پولیس کےساتھ مل کر غزہ کی ذمہ داری سنبھالے گی۔


