ہومتازہ ترینپاک چین دواسازی تعاون سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو نئی...

پاک چین دواسازی تعاون سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو نئی رفتار ملے گی

پاکستان اور چین کے درمیان صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری سے متعلق دو روزہ کانفرنس ہفتے کے روز اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں پاکستان کی معروف دوا ساز ، صحت اور بایوٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں کو چینی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستان اور چین کے درمیان دواسازی، صحت اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں سے متعلق منعقدہ بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ تقریب پاکستان اور چین کی دواساز صنعتوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس تقریب کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان ہونے والے بی ٹو بی معاہدے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے تحت تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے چینی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی سفارتخانہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط کے مزید فروغ اور دوطرفہ سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کے لئے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

جیانگ زائی ڈونگ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان ملک میں کام کرنے والے چینی کاروباری اداروں کے لئے مستحکم سیکیورٹی اور سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

جیانگ نے کہا کہ بلاشبہ چین کی وسیع منڈی پاکستان کے لئے نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری تعاون میں مزید اضافہ دونوں ممالک کے لئے باہمی فوائد کا باعث بنے گا جبکہ اس سے پاکستان اور چین کے درمیان ہمیشہ کے سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری بھی مزید مضبوط ہوگی۔

جمعہ سے ہفتے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں بی ٹو بی کاروباری روابط کے سیشنز اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان انفرادی ملاقاتوں کا اہتمام کیا گیا تاکہ مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی شراکت داری اور طویل مدتی صنعتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

اسلام آباد سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Authors

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں