واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی شپنگ نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات ایسے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں جو مبینہ طور پر ایران کو تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کر رہا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ محکمہ خزانہ ایرانی حکومت کے خطرناک مالیاتی ڈھانچے کو ختم کر رہا ہے۔ ان پابندیوں کا ہدف محمد حسین شمخانی کا نیٹ ورک ہے، جو امریکی قومی سلامتی اور عالمی بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ نئی پابندیاں اپریل میں عائد کی گئی پابندیوں اور گزشتہ سال کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہیں۔ محکمہ خزانہ نے بتایا کہ محمد حسین شمخانی کے نیٹ ورک سے وابستہ 200 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
ان پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور اداروں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے، جبکہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔


