اسلام آباد (لارڈ میڈیا): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے پاک فوج اور شہداء سے متعلق بیان پر ملک بھر میں سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف وفاقی وزراء اور سیاسی رہنماؤں نے بیان کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ شہداء پوری قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو کسی دنیاوی پیمانے سے نہیں تولا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے بارے میں سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مولانا فضل الرحمٰن کے الفاظ کو پاکستانیوں کے دل دکھانے والا قرار دیا اور کہا کہ فوجی جوان وطن اور قوم کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہادت کو مالی معاوضے سے جوڑنا انصاف و اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔
وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے بیان کو شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن قوم و شہداء کے اہلِ خانہ سے معافی مانگیں۔
وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنا بیان واپس لیں اور پوری قوم سے معذرت کریں۔
صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا اختیار ولی، رکن خیبرپختونخوا اسمبلی فرح خان، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اور دیگر رہنماؤں نے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔
مختلف سیاسی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمٰن سے اپنا بیان واپس لینے اور قوم سمیت شہداء کے اہلِ خانہ سے معذرت کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔


