اسلام آباد (لارڈ میڈیا): حکومت نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کی تجویز منظور کرلی ہے۔ اس اقدام سے ملک میں ڈیزل کی مکمل مقامی پیداوار کا ہدف حاصل کرنے کی توقع ہے۔
حکومت نے 2023 کی براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی میں اہم ترامیم کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اپ گریڈیشن مشینری یا مصنوعات پر عائد سیلز ٹیکس کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اس پالیسی میں تبدیلیاں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
پالیسی کے تحت اپ گریڈیشن مشینری کی درامد پر کسٹم ڈیوٹی صفر ہوگی اور ریفائنریز کو مراعاتی پیکج دیا جائے گا۔ ریفائنریز کو ملکی بینکوں میں فارن کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
ریفائنریز کی اپ گریڈیشن آئندہ 3 سے 5 سال میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی توقع ہے اور ایندھن کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین خام تیل کی بنیاد پر کرنے کی تجویز ہے تاکہ موجودہ درآمدی قیمتوں پر انحصار کم ہو۔


