لاہور (لارڈ میڈیا): ملک میں عام شہری پاسپورٹ کے حصول کے لیے فیس، طویل قطاروں اور انتظار کے مراحل سے گزرتے ہیں جبکہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز شخصیات کو بلیو اور ریڈ پاسپورٹ مفت اور ارجنٹ بنیادوں پر جاری کیے جا رہے ہیں۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم، اسپیکر قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور گریڈ 22 کے افسران اس سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے 432 ارکان، پنجاب اسمبلی کے ساڑھے تین سو سے زائد، خیبرپختونخوا اسمبلی کے سو سے زائد، سندھ اسمبلی کے ڈیڑھ سو اور بلوچستان اسمبلی کے پچاس سے زائد ارکان بلیو پاسپورٹ حاصل کر چکے ہیں۔
100 سے زائد سینیٹرز، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز، وزرائے اعلیٰ اور گریڈ 22 کے افسران کو بھی رواں سال بلیو پاسپورٹ جاری کیے گئے ہیں۔ یہ پاسپورٹ ارجنٹ کیٹیگری میں بغیر کسی فیس کے جاری کیے جا رہے ہیں۔
عام شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں فیس ادا کرنے اور لمبی قطاروں میں انتظار کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بااثر شخصیات کو مفت بلیو پاسپورٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مفت پاسپورٹ کی سہولت بزرگوں اور مستحق افراد کو ملنی چاہیے۔
پاسپورٹ ذرائع کے مطابق محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن نے گزشتہ مالی سال میں تقریباً 100 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا اور رواں مالی سال کے لیے 150 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی جگہ ای پاسپورٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔


