ہومتازہ ترینجنوبی کوریا کے سابق صدر یون کو سیاسی فنڈز ایکٹ کی خلاف...

جنوبی کوریا کے سابق صدر یون کو سیاسی فنڈز ایکٹ کی خلاف ورزی پر 2 سال قید کی سزا

سیول (شِنہوا) جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک-یول کو غیر قانونی رائے عامہ کے جائزے حاصل کرنے سے متعلق سیاسی فنڈز ایکٹ کی خلاف ورزی پر 2 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق سیول کی ضلعی عدالت نے یون کو پیر کے روز قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ سابق صدر نے 14 مواقع پر خود ساختہ سیاسی بروکر میونگ تائی-کیون سے مفت رائے عامہ کے جائزے حاصل کئے تھے۔

عدالت نے اس بات کی تصدیق کی کہ یون نے 2022 کے صدارتی انتخاب کے دوران میونگ کی حمایت کے بدلے عام انتخابات کی نامزدگی پر اثر و رسوخ استعمال کیا۔

من جونگ-کی کی سربراہی میں کام کرنے والی آزاد کونسل کی ٹیم نے یون اور ان کی اہلیہ کم کیون-ہی پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کی تھیں جس نے معزول رہنما کو چار سال قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

میونگ کو ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی گئی جو خصوصی کونسل کی جانب سے مانگی گئی تین سالہ قید سے کم ہے۔

یون پر الزام تھا کہ اس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر سازش کی اور 2022 کے صدارتی انتخابات سے قبل جون 2021 سے مارچ 2022 تک 58 مواقع پر سیاسی بروکر سے حسب ضرورت رائے عامہ کے مفت جائزے حاصل کئے جس کے بدلے اسی سال کے آخر میں ہونے والے ایک پارلیمانی ضمنی انتخاب میں پیپل پاور پارٹی کے ایک سابق قانون ساز کی غیر قانونی نامزدگی کی گئی۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے یون کو جنوری 2025 میں انسداد بدعنوانی ایجنسی کو وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد سے روکنے کے لئے صدارتی سکیورٹی سروس کے غلط استعمال پر سات سال قید کی سزا کو حتمی شکل دی تھی۔

یون کو فروری میں مارشل لاء کے اعلان سے پیدا ہونے والی بغاوت پر عمر قید اور جون میں عوامی جمہوریہ کوریا میں ڈرونز بھیجنے سے متعلق غداری کے جرم میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

یون کی جانب سے ہنگامی مارشل لاء کا اعلان 3 دسمبر 2024 کی رات کو کیا گیا تھا لیکن قومی اسمبلی نے چند گھنٹوں بعد ہی اسے منسوخ کر دیا تھا۔

آئینی عدالت نے اپریل 2025 میں یون کے مواخذے کی تحریک برقرار رکھی جس سے انہیں باضابطہ طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

انہیں جنوری 2025 میں بغاوت کے مشتبہ سرغنہ کے طور پر حراست میں لے کر فرد جرم عائد کی گئی تھی اور وہ گرفتاری و فرد جرم کا سامنا کرنے والے پہلے برسر اقتدار صدر بن گئے تھے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں