کابل (شِنہوا) اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 5 سال سے کم عمر کے 37 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں میں خوراک اور غذائیت کا عدم تحفظ غذائی قلت کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ناقص غذا اور بڑھتا ہوا غذائی عدم تحفظ کمزور بچوں کو شدید غذائی قلت کے موسم کے آغاز سے پہلے ہی جان لیوا صورتحال کے قریب دھکیل رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس بحران کو مزید سنگین بنانے والے باہم مربوط عوامل میں بار بار بیماریوں کا پھیلاؤ، حفاظتی ٹیکوں کی کم شرح، صاف پانی، صفائی اور حفظان صحت کی ناکافی سہولیات، نیز فنڈنگ اور ضروری سامان کی فراہمی میں بڑھتا ہوا خلا شامل ہیں۔
رپورٹ میں غذائی بحران کی ابتدائی علامات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں غذا میں تنوع کی کمی، کھانا چھوڑ دینا اور بچوں کی غذائی ضروریات سے کم خوراک کا استعمال شامل ہے۔ افغانستان میں یونیسف کے نمائندے تاج الدین اوئیوالے نے کہا کہ "افغانستان میں کم عمر بچے شدید غذائی قلت کے موسم کے آغاز سے پہلے ہی غذائی قلت کے زیادہ قریب پہنچ رہے ہیں۔”
یونیسف نے بچوں کی غذائی ضروریات کے تحفظ اور غذائی قلت کے کیسز میں مزید اضافہ روکنے کے لئے فوری طور پر سرمایہ کاری بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ صورتحال مزید خراب ہونے سے پہلے سب سے زیادہ کمزور بچوں کے تحفظ کے لئے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔


