ہومتازہ ترینمیانمار میں چینی زبان سیکھنے والے طلبہ کھیلوں کے ذریعے دوستی کو...

میانمار میں چینی زبان سیکھنے والے طلبہ کھیلوں کے ذریعے دوستی کو مضبوط بنارہے ہیں

یانگون (شِنہوا) یانگون کے نیشنل ان ڈور سٹیڈیم (1) میں جب چینی زبان سیکھنے والے ہزاروں طلبہ دوستانہ کھیلوں کے ایک روزہ مقابلوں کے لئے جمع ہوئے تو نعرے، قہقہے اور حوصلہ افزا الفاظ گونج اٹھے جس نے کھیلوں کو دوستی، ٹیم ورک اور ثقافتی تبادلے کا ذریعہ بنا دیا۔

طلبہ نے اپنے معمول کے کلاس رومز جہاں وہ چینی حروف، تلفظ اور گرائمر سیکھنے میں گھنٹوں گزارتے ہیں، سے دور کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیا جس نے انہیں یانگون کے مختلف علاقوں سے آئے ہم جماعتوں، اساتذہ اور دیگر سیکھنے والوں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کیا۔

بہت سے شرکاء کے لئے یہ اجتماع جیتنے یا ہارنے سے بڑھ کر ایک پر جوش اور دوستانہ ماحول میں بات چیت اور تعاون کرنے سمیت ایک دوسرے کو جاننے کا موقع تھا۔

ایک ماہ سے زائد عرصے سے چینی زبان سیکھنے والے ہلینگ تھایا ٹاؤن شپ کے 17 سالہ طالب علم فیو خانت کیاؤ نے فٹ بال میں حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس تقریب کے ذریعے دوستوں اور اساتذہ کے ساتھ یادیں بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو دوستی بناتے ہیں وہ ہمیں چینی زبان زیادہ آسانی سے سیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ہم یہاں ایک خاندان اور بہن بھائیوں کی طرح ہیں۔ میں نے چینی زبان سیکھنے کا انتخاب اپنے شوق اور اس کے سبب ملازمت کے مواقع کی وجہ سے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی گانے گانا زبان سیکھنے کا سب سے دلچسپ حصہ اور چینی حروف لکھنا سب سے مشکل کام تھا۔

دیگر طلبہ نے اس تقریب کو اپنے کلاس رومز سے باہر اپنے سماجی حلقوں کو وسعت دینے کا ایک موقع قرار دیا۔

کامایوٹ ٹاؤن شپ سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ ای تھن زار اونگ نے بھی تفریحی کھیلوں میں حصہ لیا۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ اس تقریب کے ذریعے ہم دوسرے ٹاؤن شپس کے طلبہ کے ساتھ قریبی دوستی قائم کر سکتے ہیں۔ ان نئے روابط نے طلبہ کو چینی زبان سیکھنے کے بارے میں تجربات کا تبادلہ کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔

انہوں نے کہا ہم سب کے پیشے مختلف ہیں لیکن چینی زبان ہماری پیشہ ورانہ زندگی میں بہت مدد کرتی ہے۔ ہمیں چینی زبان استعمال کرنے کے لئے بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں، ہم میانمار میں رہتے ہوئے بھی چینی زبان استعمال کر سکتے اور اس کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔

گولڈن ایجوکیشن شیئرنگ سنٹر کی پرنسپل اور تقریب کی منتظم داؤ آئے آئے نے بتایا کہ کھیلوں کے اس اجتماع میں چینی زبان سیکھنے والے تقریباً 7 ہزار طلبہ نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا ہم نے یہ تقریب اس لئے منعقد کی تاکہ یہ طلبہ کے لئے یادگار ثابت ہو اور ان کے درمیان دوستی کو فروغ ملے۔

میانمار-چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے چیئرمین یو تن او نے کہا کہ اس تقریب نے کھیلوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے اور دوستی کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔

انہوں نے کہا ہمیں میانمار اور چین کے درمیان دوستی کو ان طلبہ اور نوجوانوں کے ذریعے مضبوط بنانا چاہیے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں