ہومتازہ ترینچین میں صحرائی پھیلاؤ کے خلاف کوششیں رنگ لے آئیں، موسم بہار...

چین میں صحرائی پھیلاؤ کے خلاف کوششیں رنگ لے آئیں، موسم بہار میں ریت کے طوفانوں میں نمایاں کمی

بیجنگ (شِنہوا) صحرائی پھیلاؤ میں اضافہ روکنے کے لئے دہائیوں پر محیط کوششوں کے بعد چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران موسم بہار میں ریت کے کم اور کمزور طوفان ریکارڈ کئے ہیں۔

جنگلات اور چراگاہوں کی قومی انتظامیہ نے گرد اور ریت کے طوفانوں سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر جاری کئے گئے اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ چین کے شمالی علاقوں میں خاص طور پر مارچ سے مئی کے دوران آنے والے موسم بہار کے گرد آلود طوفانوں کی اوسط تعداد 2 دہائیاں قبل سالانہ 12.5 تھی، جو حالیہ برسوں میں کم ہو کر 9.6 رہ گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق یہ کمی کئی برسوں سے جاری ماحولیاتی بحالی کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جن میں تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام بھی شامل ہے۔ 1978 میں شروع کئے گئے اس وسیع شجرکاری منصوبے کا مقصد صحراؤں میں اضافے کو روکنا اور چین کے شمالی علاقوں میں ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔

14ویں 5سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران چین نے 15 کروڑ 20 لاکھ مو (تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ ہیکٹر) ریتلی زمین کو بحال کیا۔ صرف رواں سال مرکزی حکومت نے 27.7 ارب یوآن (تقریباً 4.07 ارب امریکی ڈالر)مختص کئے ہیں تاکہ بحالی کے 328 منصوبوں کی معاونت کی جا سکے، جو 9 کروڑ 50 لاکھ مو سے زائد رقبے پر محیط ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ صدی کے اختتام پر ریتلی زمین کا رقبہ اوسطاً 51 لاکھ 50 ہزار مو سالانہ بڑھ رہا تھا، جبکہ اب اس میں اوسطاً ایک کروڑ مو سالانہ کمی آ رہی ہے۔ 2000 کے بعد سے چین کے 8 بڑے صحراؤں اور 4 بڑے ریتلی علاقوں میں ہوا کے باعث مٹی کے کٹاؤ میں تقریباً 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں