اندلس (لارڈ میڈیا): اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں خوفناک جنگلاتی آگ کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 23 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ آگ ملک کی تاریخ کی مہلک ترین جنگلاتی آگ میں سے ایک ہے، جبکہ فائر فائٹرز مسلسل آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اندلس کے ایمرجنسی امور کے سربراہ انتونیو سانز نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہسپانوی شہری شامل ہے جبکہ باقی افراد غیر ملکی تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرین نے محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات نظر انداز کرکے اپنی گاڑیوں میں علاقے سے نکلنے کی کوشش کی، لیکن آگ کے پھیلاؤ کے باعث وہ اس کی زد میں آگئے۔
حکام کے مطابق ایک گاڑی میں چار افراد کی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں، جو غالباً برطانوی شہری تھے۔ آٹھ افراد نے پیدل محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش کی، لیکن غلط راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ لاشوں کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جائے گی۔
اندلس کے صدر خوان مانوئل مورینو نے کہا کہ آگ تیز ہواؤں کی وجہ سے بارود کی طرح پھیلی اور یہ ایک پیچیدہ آگ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید تیز ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
یہ واقعہ 2017 میں پرتگال میں لگنے والی آگ سے مشابہت رکھتا ہے جہاں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سال اسپین میں گرمی کی شدید لہروں نے ملک کے بڑے حصے کو خشک کر دیا ہے، جس سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے اس واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ بجلی کی ٹوٹی ہوئی تار سے لگی، لیکن بجلی کمپنی نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔


