ہومتازہ ترینچین-یورپ مال بردار ٹرین سروس پورے براعظم میں اقتصادی ترقی کو مضبوط...

چین-یورپ مال بردار ٹرین سروس پورے براعظم میں اقتصادی ترقی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ

شی آن (شِنہوا) قازقستان سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طالب علم کیرل سائیکو کے لئے تیل اور مرچوں والی چٹنی میں ڈوبی ہوئی نوڈلز جو کہ ایک روایتی چینی ڈش ہے، کو پہلی بار چکھنا ایک دلچسپ تجربہ تھا۔

یہ روایتی نوڈلز نہ صرف ان کے ذائقے کے لئے یادگار تھے بلکہ یہ جان کر ان کا تجربہ اور بھی خاص ہو گیا کہ یہ نوڈلز ان کے اپنے ملک میں پیدا ہونے والی گندم سے بنے تھے۔

قازقستان کی شمالی سرزمین اپنی زرخیز سیاہ مٹی، بھرپور دھوپ اور دن رات کے درجہ حرارت میں نمایاں فرق کی وجہ سے اعلیٰ معیار کی پروٹین سے بھرپور گندم پیدا کرتی ہے جو اپنی منفرد خوشبو اور بہترین معیار کے لئے مشہور ہے۔

ہزاروں سال قبل گندم پہلی بار وسطی ایشیا سے چین پہنچی تھی، اب اسی خطے سے اعلیٰ معیار کی گندم کی نئی پیداوار چین-یورپ ریلوے ایکسپریس کے ذریعے دوبارہ چینی دسترخوان تک پہنچ رہی ہے جو چینی صارفین کو نیا انتخاب فراہم کر رہی ہے۔ یہ تجارت یوریشیا کے پورے براعظم میں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے والی سرحد پار ریل سروسز کی مضبوط کارکردگی کی ایک واضح مثال بھی ہے۔

چائنہ اسٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ کے مطابق چین-یورپ ریلوے ایکسپریس نے 9 مئی تک ایک لاکھ 30 ہزار سفری دورے مکمل کئے ہیں جبکہ اس کے ذریعے منتقل ہونے والے سامان کی مجموعی مالیت 520 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

شی آن آئیجو گرین اینڈ آئل انڈسٹریل گروپ کے ڈپٹی جنرل منیجر لیو ڈونگ مینگ نے کہا کہ قازقستان کے آٹے سے بنی نوڈلز زیادہ چبانے والی ہوتی ہیں اور شی آن کے صارفین کو ایک منفرد ذائقہ فراہم کرتی ہیں جو چین کے شمال مغرب میں واقع ایک ایسا شہر ہے جسے ملک کا "کاربوہائیڈریٹ کیپٹل” بھی کہا جاتا ہے۔

چین-یورپ ریلوے ایکسپریس کمپنی وسطی ایشیائی ملک میں سرمایہ کاری کو بھی سہولت فراہم کرتی ہے چونکہ قازقستان میں پیدا ہونے والی گندم صرف پانچ دن میں ریل سروس کے ذریعے چین کے شمال مغربی صوبہ شانشی کے دارالحکومت شی آن تک پہنچ سکتی ہے، اس لئے کمپنی نے حالیہ برسوں میں مقامی کسانوں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے ایک لاکھ ہیکٹر زمین پر گندم کی کاشت شروع کی ہے۔ اس نے ملک میں چارے، تیل دار بیجوں اور آٹے کی پیداوار کے مراکز بھی قائم کئے ہیں جس سے تقریباً 300 مقامی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔

آج کل زیادہ قدر والی مصنوعات جیسے شمسی توانائی کے ماڈیولز، گاڑیوں کے پرزے ، ذہین برقی آلات اور نئی توانائی والی گاڑیاں چین-یورپ ریلوے ایکسپریس کے مال برداری نظام کا بڑھتا ہوا حصہ بن رہی ہیں۔ یورپ اور وسطی ایشیا سے واپس آنے والی مال بردار ٹرینیں بھی گندم، ڈیری مصنوعات، کاسمیٹکس اور زیورات جیسے سامان سے لدی ہوتی ہیں جو چینی صارفین کے لئے مزید متنوع انتخاب فراہم کرتی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں