چِیلیان کاؤنٹی
شمال مغربی صوبہ چِنگہائی، چین
20 برس۔
ایک جوڑا۔ ایک موٹرسائیکل اور تین کمروں کا ایک سادہ سا گھر۔
ہزاروں کلومیٹر علاقے میں گشت کے ذریعے وہ دریائے حئی حہ کے منبع کے محافظ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
تقریباً 4 ہزار میٹر کی اوسط بلندی پر واقع اس علاقے میں آکسیجن کی سطح میدانی علاقوں کے مقابلے میں بمشکل نصف ہوگی۔ اس لئے اسے زندگی کے لئے ایک ممنوع خطہ کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ یہاں کس طرح زندگی گزار رہے ہیں اور سالہا سال سے کیسے ڈٹے ہوئے ہیں؟
چِیلیان کاؤنٹی کے مرکز سے تین گھنٹے سے زائد کا سفر کر کے دوردراز بلند پہاڑی علاقوں میں وہ مقام آتا ہے جہاں دریائے حئی حہ سورس کنزرویشن اسٹیشن واقع ہے۔
یہاں تار کی باڑ سے گھرا ایک صحن ہے جبکہ ایک تبتی نسل کا کتا ’’تاؤیوآن ‘‘پہرہ دے رہا ہے۔
یہ کنزرویشن اسٹیشن ایک کام کی جگہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔
یہ ان کا گھر بھی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): یے جِن اری، محافظ، دریائے حئی حہ سورس کنزرویشن اسٹیشن
’’ہم 16 نومبر 2006 کو اس جگہ آئے تھے۔ اُس وقت یہاں پانی کا کوئی نلکا تھا نہ ہی بجلی۔ یہاں تک کہ گھر بھی نہیں تھا۔ صرف 12 مربع میٹر کا ایک خیمہ تھا۔‘‘
ان ابتدائی برسوں میں یہاں کی زندگی تنہائی، مشکلات اور ثابت قدمی سے عبارت تھی لیکن اس جوڑے نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔
برسوں ایک ساتھ کام کرتے ہوئے وہ رفتہ رفتہ اس بلند پہاڑی علاقے میں زندگی کی خوبصورتی محسوس کرنے لگے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): یے جِن اری، محافظ، دریائے حئی حہ سورس کنزرویشن اسٹیشن
’’میں نےیاکوں کے ایک ریوڑ کو دیکھا ہے۔ کچھ فاصلے پر پرزوالسکی ہرن اور جنگلی گدھے بھی ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے مہاجر پرندوں کی آواز بہت خوبصورت ہوتی ہے۔ وہ بعض اوقات اپنے سات آٹھ ننھے بچوں کو ساتھ لئے ہمارے گھر کے بالکل قریب آ جاتے ہیں۔ یہ پرندوں کا گھر ہے۔ ہمارا مشترکہ گھر ہے۔‘‘
ایک موٹرسائیکل اور دو افراد۔ ایک بار گشت کا مطلب ہے سارا دن چلتے رہنا۔
دراصل ان کے گشت کی 200 سے 300 مربع کلومیٹر حدود میں درجنوں چیک پوائنٹس اور دریائے حئی حہ کی 50 سے زائد معاون ندیاں آتی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): یے جِن اری، محافظ، دریائے حئی حہ سورس کنزرویشن اسٹیشن
’’کبھی موٹرسائیکل کا ٹائر پنکچر ہو جاتا ہے یا اس کی چین ٹوٹ جاتی ہے۔ ہم نے چرواہوں کے پرانے باڑوں یا عارضی پناہ گاہوں میں رات گزاری اور پھر اگلی صبح واپس آئے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): یے جِن اری، محافظ، دریائے حئی حہ سورس کنزرویشن اسٹیشن
’’جب میں گشت کی رپورٹ لکھ رہا ہوتا ہوں اور لکھنے کو کچھ نہیں ہوتا تو مجھے سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جب غیر قانونی کھدائی یا کوڑا کرکٹ جلانے جیسی باتیں لکھنی پڑیں تو واقعی بہت دکھ ہوتا ہے۔ یہاں کا پانی اتنا صاف ہے کہ اسے آلودہ دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے۔‘‘
گرم پانی کا ایک گھونٹ اور گوکُوئی (روایتی فلیٹ بریڈ) کا ایک نوالہ۔ ہر گشت کے بعد یہ جوڑا اس گلیشیئر کے سامنے آرام کرتا ہے جسے وہ کئی بار دیکھ چکے ہیں۔ یہ دشوار پہاڑی منظر برسوں سے ان کے لئے مانوس ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): یے جِن اری، محافظ، دریائے حئی حہ سورس کنزرویشن اسٹیشن
’’جب بھی میں اس گلیشیئر کو دیکھتا ہوں تو میں یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ کس قدر پُرکشش اور خوبصورت ہے۔ یہ وہ خوشی ہے جو قدرت نے ہمیں دی ہے۔ آج کا گشت معمول کے مطابق تھا۔ یہی سب سے بہتر نتیجہ ہے۔‘‘
دریائے حئی حہ تقریباً 80 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہ چِنگہائی، گانسو اور اندرونی منگولیا سے گزرتا ہے۔
کئی برسوں کی مسلسل حفاظتی کوششوں نےدریائے حئی حہ کے سورس ایریا میں گھاس کے میدانوں اور نازک نباتات کی بحالی میں مدد دی ہے۔ پانی کا معیار بہتر ہوا ہے اور حیاتیاتی تنوع بھی بحال ہو رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): یے جِن اری، محافظ، دریائے حئی حہ سورس کنزرویشن اسٹیشن
’’دریائے حئی حہ مسلسل بہہ رہا ہے۔ گھاس زیادہ ہری اور گھنی ہو رہی ہے اور سیاہ پڑے بنجر حصے اب غائب ہو چکے ہیں۔ یہاں آ کر گھر جیسا احساس ہوتا ہے۔ میں جب یہاں پہنچتا ہوں تو دل کو سکون ملتا ہے اور باہر نکل کر جب ہر چیز کو سرسبز و شاداب دیکھتا ہوں تو دل پر گہرا اطمینان چھا جاتا ہے۔‘‘
شی ننگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


