دسویں چین جنوبی ایشیا ایکسپو جمعرات کے روز چین کے جنوب مغربی صوبہ یوننان کے دارالحکومت کونمنگ میں شروع ہو گئی۔ ’’مشترکہ ترقی کے لئے یکجہتی اور ہم آہنگی‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں علاقائی تجارت اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
چھ روز تک جاری رہنے والے اس ایونٹ میں 68 ممالک، خطوں اور عالمی تنظیموں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک کی 560 سے زائد کمپنیاں ایکسپو میں حصہ لے رہی ہیں۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد پیشہ ور خریداروں نے اس میں اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔ ان خریداروں میں جرمنی، برازیل اور مصر سمیت 45 ممالک سے تعلق رکھنے والےغیر ملکی خریدار بھی شامل ہیں جو کہ مجموعی تعداد کا 60 فیصد سے زیادہ بنتے ہیں۔
ایکسپو میں 13 پویلین قائم کئے گئے ہیں جن میں ماحول دوست توانائی، خدماتی تجارت اور مینوفیکچرنگ سے کافی کی صنعت تک مختلف شعبوں کی نمائندگی موجود ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ ایک پروکیورمنٹ میچ میکنگ سینٹر قائم کیا گیا ہے جبکہ رسد اور طلب میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی تقریبات، نئی مصنوعات کی شروعات اور چین اور جنوبی ایشیا کی حکومتوں، صنعتوں، جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان سیمینار بھی منعقد کئے جا رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): اینون جونگ پراجام، تھائی نمائش کنندہ
’’ہم گزشتہ 30 برسوں سے صابن تیار کر رہے ہیں۔ چین کے ساتھ ہمارے بہت قریبی تعلقات ہیں۔ اس تقریب میں ہماری شرکت کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ چین کی منڈی بہت وسیع ہے اور اگر ہمیں اس منڈی میں معمولی سا حصہ بھی مل جائے تو یہ ہمارے لئے بڑی کامیابی اور خوشی کی بات ہو گی۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): دیوی تانویجایا، انڈونیشین نمائش کنندہ
’’ہم اس نمائش میں شرکت کے لئے تقریباً چار مرتبہ چین آ چکے ہیں۔ منڈی کا ردعمل کافی اچھا رہا ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): تھوتاگاموواگے، سری لنکن نمائش کنندہ
’’ہم چھٹی بار اس نمائش میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہ نمائش ہمارے لئے اپنے زیورات عالمی سطح پر متعارف کرانے کا ایک سنہری موقع ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): نصیر احمد، پاکستانی نمائش کنندہ
’’ہمیں چین بھر کی منڈیوں سے ہمیشہ بہت اچھا ردعمل ملتا ہے۔ ہمارے تعلقات سمندر کی طرح گہرے اور پہاڑوں کی طرح بلند ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تعلقات مستقبل میں بھی ماضی کی طرح مضبوط رہیں گے‘‘
نو مرتبہ کامیابی سے منعقد ہونے والی چین جنوبی ایشیا ایکسپو نے اب تک 3000 سے زائد منصوبوں کے معاہدوں اور 100 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کی غیر ملکی تجارت کے فروغ میں سہولت فراہم کی ہے۔چین اب پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔ سال 2025 میں چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی حجم 10.7 فیصد سے زیادہ کے سالانہ اضافے کے ساتھ 200 ارب امریکی ڈالر سے بھی تجاوز کر گیا تھا۔
کونمنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


