ہومتازہ ترینآبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی بحالی میں کئی ہفتے...

آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، سربراہ ٹینکر کمپنی

لندن (شِنہوا) فنانشل ٹائمز نے ٹینکر آپریٹر مٹسوئی او ایس کے لائنز کے سربراہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے باوجود اس اہم آبی گزرگاہ سے بحری آمد ورفت فوری طور پر معمول پر آنے کا امکان کم ہے۔

بحری جہازوں کی تعداد کے لحاظ سے ٹینکر چلانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی مٹسوئی او ایس کے لائنز کے چیف ایگزیکٹو جوتارو تامورا نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ بہت سے بحری جہاز چلانے والی کمپنیاں اس وقت تک احتیاط برتیں گیں جب تک یہ واضح ثبوت سامنے نہ آجائے کہ معاہدہ واقعی محفوظ بحری راستے کی ضمانت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف متعلقہ ممالک کے درمیان ایک سادہ معاہدہ کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے عملی شکل میں آبنائے ہرمز کی صورتحال میں ظاہر ہونا ہوگا تاکہ بحری جہازوں کی کمپنیاں اطمینان کے ساتھ وہاں سے گزر سکیں۔

تامورا نے مزید کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں بار بار درپیش رکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے یہ مناسب ہوگا کہ بحالی کے عمل میں کم از کم چند ہفتے یا حتیٰ کہ ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز توانائی کی ترسیل کے حوالے سے دنیا کے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے۔ تنازع سے پہلے دنیا کا تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا پانچواں سے زیادہ حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا جبکہ اناج اور دیگر صارف اشیاء کی ترسیل کے لئے بھی یہ اہم ہے۔ تنازع سے قبل اس آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 135 بحری جہاز گزرتے تھے تاہم اب یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے۔

مٹسوئی او ایس کے لائنز کے پاس 900 سے زائد بحری جہاز ہیں جن میں 200 سے زیادہ ٹینکر شامل ہیں جو خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور کیمیکلز لے جاتے ہیں۔ تامورا نے بتایا کہ جاپانی کمپنی نے معاہدے سے پہلے چار جہاز خلیج سے باہر منتقل کر دیئے تھے جبکہ کم از کم سات جہاز اب بھی اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے منتظر ہیں۔

غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل منظم اور مربوط طریقے سے کیا جائے۔ دیگر شپنگ کمپنیوں نے اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے منتظر تقریباً 500 جہازوں کی روانگی کے عمل کو مربوط بنائے۔

آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگویز نے کہا کہ ادارہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا بحری جہاز محفوظ طریقے سے سفر دوبارہ شروع کر سکتے ہیں یا نہیں جبکہ بارودی سرنگوں اور رش جیسے خطرات سے بھی بچنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم او خلیج میں 100 دن سے زائد عرصے سے پھنسے ہوئے بحری عملے کے لئے محفوظ انخلا پر بھی کام کر رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں