شیامن (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبہ فوجیان کے شہر شیامن میں 18ویں آبنائے فورم کی مرکزی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں آبنائے تائیوان کے دونوں جانب سے آئے ہوئے نمائندوں اور مہمانوں نے پرامن ترقی اور باہمی تبادلوں کے فروغ پر زور دیتے ہوئے علیحدگی پسندی کی مخالفت کی۔
2009 سے آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان تبادلے کے سالانہ پلیٹ فارم کے طور پر منعقد ہونے والا آبنائے فورم اس سال ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب مین لینڈ نے اپریل میں دونوں جانب کے تبادلوں اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے 10 پالیسی اقدامات پر مشتمل ایک پیکج متعارف کرایا تھا جسے آبنائے تائیوان کے دونوں جانب تعلقات کی ترقی کے لئے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مرکزی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے اعلیٰ سیاسی مشیر وانگ ہوننگ نے آبنائے کے پار تعلقات کی پرامن ترقی اور قومی اتحاد کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔
کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی کے چیئرمین وانگ ہوننگ نے کہا کہ آبنائے کے دونوں کنارے ایک ہی چین کا حصہ ہیں۔
انہوں نے "تائیوان کی آزادی” کی علیحدگی پسند سرگرمیوں اور بیرونی مداخلت کی سختی سے مخالفت کرنے اور چینی قوم کے مشترکہ گھر کے تحفظ اور ترقی کے لئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مین لینڈ تائیوانی ہم وطنوں کے ساتھ ترقی کے مواقع اور ثمرات بانٹنے کے لئے تیار ہے اور انہیں آبنائے پار تبادلوں، تعاون اور مربوط ترقی میں شرکت کی دعوت دیتا ہے۔
وانگ نے امید ظاہر کی کہ آبنائے کے دونوں جانب کے عوام، خصوصاً نوجوان نسل چینی قوم، چینی ثقافت اور وطن کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید مضبوط بنائیں گے اور چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کے لئے مل کر کام کریں گے۔
فورم سے خطاب کرتے ہوئے چینی کومن تانگ پارٹی کے نائب چیئرمین چھانگ جونگ کونگ نے کہا کہ آبنائے کے دونوں جانب کے لوگ چینی قوم کا حصہ ہیں، ان کی جڑیں مشترک ہیں اور وہ خونی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص حقیقی معنوں میں تائیوانی ہے وہ بلا شبہ چینی بھی ہے۔
چھانگ نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق عوامی فلاح و بہبود میں بہتری کے لئے تبادلوں اور تعاون کو وسعت دیں گے، آبنائے میں امن کے تحفظ کے لئے مل کر کام کریں گے اور قومی نشاۃ ثانیہ میں کردار ادا کریں گے۔
جاری 18ویں آبنائے فورم کے دوران اس سال سماجی بہبود، کھیل، فنون، مالیاتی ٹیکنالوجی، زراعت، نئے میڈیا اور دیگر شعبوں میں تبادلوں سے متعلق 58 پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں۔


