چین کے شہر شین یانگ میں قائم ایک یادگاری ہال میں ایسے تاریخی ریکارڈ محفوظ ہیں جن سے70 برس قبل جاپانی جنگی مجرموں کے خلاف چلائے گئے مقدمات کے حوالے سے گواہی ملتی ہے۔
18 ستمبر 1931 کو جاپانی فوجیوں نے شین یانگ کے قریب اپنی زیرِ کنٹرول ریلوے لائن کے ایک حصے کو دھماکے سے اڑا دیا اور پھر حملے کے جواز کے طور پر اس تخریب کاری کا الزام چینی فوج پر عائد کر دیا۔
اسی شام جاپانی فوج نے شین یانگ کے قریب فوجی بیرکوں پر بمباری کی جس کے ساتھ ہی خونریز جارحیت کا آغاز ہو گیا۔
سال 1956 میں اس شہر نے انصاف کی حتمی تکمیل کا منظر دیکھا۔
جون اور جولائی 1956 کے دوران شین یانگ میں مجموعی طور پر 36 ملزمان کے خلاف دو مرحلوں میں مقدمات چلائے گئے۔ آٹھ ملزمان کے پہلے گروپ کے خلاف مقدمے کی سماعت 9 جون کو شروع ہوئی۔
جاپان میں جدید عسکریت پسندی کی حالیہ ابھرتی ہوئی سوچ کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے ان مقدمات کو یاد رکھنا آج بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): لی سِی شوان، گائیڈ، یادگاری ہال، شین یانگ ٹربیونل سائیٹ
’’مقدمات کے اصل مقام پر تعمیر کیا گیا یہ یادگاری ہال شین یانگ ٹربیونل کے کمرہ عدالت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں آنے والے سیاح ماضی میں جھانک کر چینی عوام کی انصاف اور حق پر مبنی منصفانہ جدوجہد کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔‘‘
چین کے شمالی صوبہ شَنشی کے دارالحکومت تائی یوآن میں بھی نو دیگر جاپانی جنگی مجرموں کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔
تمام 45 ملزمان کو آٹھ سے بیس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): منگ یوئے، محقق، یادگاری ہال، شین یانگ ٹربیونل سائیٹ
’’چین کے شہر شین یانگ میں چلنے والے یہ مقدمات چین کے انصاف اور مساوات کے عزم، امن کے اصولوں سے وابستگی اور ایک بڑی ذمہ دار ریاست کے طور پر اس کے نئے طرزِ عمل کی روشن مثال ہیں۔ ان مقدمات میں دئیے گئے انصاف اور انسانی اصولوں پر مبنی فیصلوں نے تاریخ میں ایک گہرے اور دیرپا نقش چھوڑے ہیں۔‘‘
شین یانگ ،چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


