بیجنگ (شِنہوا) چین نے 2025 میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے اور ملک میں قابل تجدید توانائی کے نئے منصوبوں نے بجلی کی بڑھتی مانگ مکمل طور پر پوری کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ معاشی ترقی کے نتیجے میں بجلی کی اضافی ضرورت صرف ماحول دوست توانائی کے ذریعے پوری کی گئی ہے۔
چائنہ رینیوایبل انرجی ڈیویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس چین میں قابل تجدید بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبوں نے ایک اور ریکارڈ قائم کیا تھا جو عالمی سطح پر ہونے والے اضافے کا 60 فیصد سے زائد ہے۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ چین 2026 میں ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اور شمسی توانائی کی صلاحیت میں مزید 300 گیگا واٹ کا اضافہ کرے گا جس سے ملک کے ماحول دوست اور کم کاربن والے توانائی کے نظام کی جانب منتقلی کا عمل جاری رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں چین کی قابل تجدید توانائی کی نصب شدہ صلاحیت 2,337 گیگا واٹ سے تجاوز کر گئی اور بجلی کے نئے منصوبوں میں قابل تجدید ذرائع کا حصہ 82.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
اس دوران تقسیم شدہ شمسی توانائی کے پینل کی تنصیب بھی مسلسل دوسرے سال 100 گیگا واٹ سے تجاوز کر گئی جس کے ساتھ ہی علاقائی توانائی گرڈز کی کھپت اور ماحول دوست توانائی کے استعمال میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
قومی توانائی انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین کی قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی تقریباً 40 کھرب کلو واٹ آور رہی جو یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی مجموعی بجلی کی کھپت (تقریباً 38 کھرب کلو واٹ آور) سے بھی زیادہ ہے۔
چین نے دنیا کا سب سے بڑا قابل تجدید توانائی کا نظام تعمیر کر لیا ہے اور وہ ہر سطح پر ماحول دوست توانائی کی منتقلی کا عمل تیز کرنے کے لئے پرعزم ہے۔


