اسلام آباد (لارڈ میڈیا): حکومت نے نئے مالیاتی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کی تیاری کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ماہانہ ایک لاکھ، دو لاکھ اور تین لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ملازمین کے لیے ٹیکس میں چھوٹ کی تجویز دی گئی ہے۔
اس پالیسی کے تحت موجودہ ٹیکس سلیبز کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کرنے کی تجویز ہے تاکہ مختلف آمدنی والے گروہوں کو ان کی بساط کے مطابق ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ سالانہ 12 لاکھ، 22 لاکھ اور 32 لاکھ روپے کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز ہے۔
حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو تین، پانچ اور دس فیصد تک ٹیکس ریلیف کی تجاویز ارسال کی ہیں۔ مزید برآں، ایسے افراد جن کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد ہے، ان پر عائد 10 فیصد اضافی سرچارج کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر عمل درآمد کی صورت میں ماہانہ دو سے تین لاکھ روپے تنخواہ لینے والے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد کو مالی فائدہ ہو گا۔ ایکسپورٹرز پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس کو بھی ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔
ان تجاویز کا مستقبل آئی ایم ایف کی منظوری سے وابستہ ہے اور حکومت کو اس حوالے سے آئی ایم ایف کے جواب کا انتظار ہے، جو آج موصول ہونے کا امکان ہے۔


