اسلام آباد (مدثرعلی رانا): حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ٹیکس سلیبز کو 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ماہانہ 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
انکم ٹیکس کی شرح میں کمی اور 1 کروڑ روپے یا اس سے زائد سالانہ تنخواہ پر 10 فیصد سرچارج ختم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو ان تجاویز پر بریفنگ دی گئی ہے جبکہ آئی ایم ایف سے حتمی منظوری کا انتظار ہے۔
ذرائع کے مطابق، تین تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں جن پر جلد ہی ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان حتمی منظوری متوقع ہے۔ ان تجاویز میں انکم ٹیکس کی شرح کو 3 فیصد، 5 فیصد، یا 10 فیصد کم کرنے کی تجویز شامل ہے۔
چھٹی اور آخری سلیب کو 41 لاکھ سے بڑھا کر 70 لاکھ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایک نئی سلیب 1 کروڑ روپے تک یا اس سے زائد تنخواہ والوں کیلئے متعارف کرائی جا رہی ہے۔
حکومت نے برآمدکنندگان پر 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جس سے ایکسپورٹرز کو 60 ارب روپے تک ریلیف ملنے کا امکان ہے۔


