ہومپاکستاناسلام آباد کی حدود سے درخت کاٹنا اب توہین عدالت تصور ہوگا،...

اسلام آباد کی حدود سے درخت کاٹنا اب توہین عدالت تصور ہوگا، ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کیخلاف کیس میں بڑا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اب اسلام آباد کی حدود سے ایک درخت بھی کٹا تو توہین عدالت تصور ہوگی، ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر مستند ماحولیاتی ماہر کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی، جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دئیے سی ڈی اے آئندہ سماعت پر دلائل دے ورنہ کیس کا فیصلہ کر دینگے۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کی، انہوں نے سی ڈی اے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہم نے ابھی سوا سال میں توہین عدالت میں کسی کو سزا نہیں دی، اب اگر سی ڈی اے کا کوئی افسر درختوں کی کٹائی میں ملوث ہوا تو توہین عدالت میں سزا ہو گی، عدالت نے سی ڈی اے کے رویہ پر اظہار حیرانگی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ بہت افسوس ہوا ادارے ایسے چلتے ہیں، اس شہر میں ہم رہتے ہیں اور چاہتے ہیں یہ خوبصورت رہے، کسی زمانے کا کراچی دیکھیں اور آج کا دیکھیں آپکو پتہ چل جائیگا۔

وکیل سی ڈی اے نے بتایا 12ہزار 800پیپر ملبری درختوں کو ایف نائن پارک سے کاٹا گیا، انکی جگہ 40ہزار درخت لگائے گئے ہیں، نجی ٹی وی پروگرام میں پیپر ملبری درختوں کا ایشو اٹھایا تھا جس پر وزیراعظم آفس نے نوٹس لیا، وزارت موسمیاتی تبدیلی نے رائے دی تھی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دئیے لاء آف نیچر اسکو سپورٹ نہیں کرتا کہ کوئی چیز اگ رہی ہو اور وہ نقصان دہ ہو، کس درجے کی ریسرچ تھی کہ یہ درخت انسانی زندگی کیلئے نقصان دہ ہیں، دنیا بھر میں صرف چند ریسرچز تسلیم شدہ ہیں کیا یہ ریسرچ ان میں سے تھی، یہاں کیا کوئی ایگریکلچر یونیورسٹی ہے؟، وکیل نے جواب دیا جی ہے، جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ان سے معاونت لی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ آئندہ سماعت پر بتا دونگا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دئیے دنیا میں ریسرچ وقت کیساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے، مجھے بہت زیادہ افسوس ہے، وفاقی دارالحکومت کا بڑا محکمہ ہے اس نے بغیر کسی مستند ریسرچ کے آپریشن کر دیا، آپ مستند انوائرمنٹل ریسرچرز کو شامل کرتے ان سے مدد لیتے، وکیل نے بتایا کہ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سے مدد لی تھی، جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دئیے اب جو چیز جہاں ہے وہی رہے گی، آپ نے درخت کاٹنے کے حوالے سے کہاں سے یہ رائے لی اس پر عدالت مطمئن نہیں، ریسرچ پیپر وائی کیٹیگری میں پبلش ہوا تو وہ کیا ریسرچ ہوگی؟، کسی ایک سنگل درخت کو بھی نہیں کاٹا جائیگا اگر عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو توہین عدالت تصور ہوگی، اگر کوئی بھی سی ڈی اے افسر ملوث ہوا تو اس کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔

وکیل نے کہا وزارت موسمیاتی تبدیلی کہہ رہی ہے ہماری منظوری شامل نہیں ہے ،پیبر ملبری درختوں کی اسلام آباد میں کٹائی سے متعلق سی ڈی اے کی ریسرچ پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سماعت آئندہ جمعرات تک کیلئے ملتوی کر دی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں