چین کے صوبہ جیانگ شی کے ایک دور دراز گاؤں میں ایک خاندان 90 برس سے زائد عرصے سے ریڈ آرمی کے ایک شہید کمانڈر کی قبر کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): شیے نانجنگ، رہائشی، شی ہان گاؤں
"دادا ڈینگ، میں آپ سے ملنے پھر آ گیا ہوں۔ اس سال چنگ منگ تہوار پر بہت سے نوجوان بھی واپس آئے ہیں۔ سب آپ سے ملنے اور باتیں کرنے آئے ہیں، دادا ڈینگ۔”
یہاں دفن ڈینگ ایگانگ ہیں جو چینی انقلاب کے دوران ریڈ آرمی کے ایک کمانڈر تھے۔
1932ء میں ایک لڑائی کے دوران وہ شدید زخمی ہوئے گئے اور ہنگامی علاج کے لیے انہیں شی ہان گاؤں لایا گیا، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گئے۔
شیے نانجنگ کے دادا اور دیگر دیہاتیوں نے انہیں پہاڑی ڈھلوان پر دفن کیا۔ اسی دن سے شیے خاندان کی پانچ نسلیں اس قبر کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): شیے نانجنگ، رہائشی، شی ہان گاؤں
"میرے دادا نے میرے والد کو بتایا اور میرے والد نے مجھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ ریڈ آرمی کے انقلابی تھے اور جب میں بڑا ہو جاؤں تو ہماری تمام نسلیں اس قبر کو اپنے آباؤ اجداد کی طرح سنبھالیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): ڈینگ ماولیانگ، ڈینگ ایگانگ کے پڑپوتے
"آپ نے اتنے برسوں تک میرے دادا کی قبر کا خیال رکھا، اس کے لیے بہت شکریہ۔ آپ کی یہ لگن ہمارے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔
80 سال سے زیادہ گزر چکے ہیں، ہم دل سے شکر گزار ہیں۔”
شیے خاندان سال میں کئی بار، خاص طور پر چنگ منگ تہوار پر، اس قبر پر حاضری دینا اپنی روایت بنا چکا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): شیے نانجنگ، رہائشی، شی ہان گاؤں
"ہم ہر سال چنگ منگ تہوار پر یہاں آتے ہیں۔ پہلے ہم ڈینگ ایگانگ کو ’کمانڈر‘ کہتے تھے مگر جب میرے بچے ہوئے تو ہم نے انہیں ’دادا ڈینگ‘ کہنا شروع کر دیا۔”
گزشتہ کئی دہائیوں میں شیے خاندان نے کبھی بھی اس قبر کی دیکھ بھال ترک نہیں کی۔
1982ء میں مٹی کے تودے گرنے سے قبر کو خطرہ لاحق ہو گیا، جس کے بعد اسے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر شیے خاندان نے اپنی جمع پونجی استعمال کی اور اپنے گھر کے لیے رکھی گئی نیلے پتھر کی سلیں بھی استعمال کر لیں۔
ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): شیے نانجنگ، رہائشی، شی ہان گاؤں
"ریڈ آرمی کے انقلابیوں کے بغیر ہمارا ملک آج ایسا نہ ہوتا۔ انہی کی قربانیوں کی بدولت لوگ پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ اب جبکہ زندگی بہتر ہو گئی ہے، ہماری نسلیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ڈینگ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔”
ساؤنڈ بائٹ 6 (چینی): شیے شیقن، شیے نانجنگ کی پوتی
"میں بچپن سے اپنے دادا سے کمانڈر ڈینگ اور ریڈ آرمی کی کہانیاں سنتی آئی ہوں۔ میرے خیال میں وہ واقعی عظیم تھے اور میں ان سے سیکھنا چاہتی ہوں۔ اگر ایک دن میرے دادا چلنے کے قابل نہ رہے تو ہمارا خاندان یہ ذمہ داری سنبھالے گا۔”
گانژو، چین سے نمائندہ شِنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ


