سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو پی ٹی آئی کیلئے بند دروازہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں ہم درخواستیں دائر کرسکتے ہیں مگر سنوائی نہیں ہوتی، ٹوئٹر کیس میں عمران خان سے ملاقات کے بعد بغیر ہی جواب داخل کرانے کا کہا جا رہا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عمران خان تک معالجین اور فیملی کی رسائی کی کوششیں کر رہے ہیں، عدالت نے ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا آرڈر کیا، ایک دن وکلا اور ایک دن فیملی سے ملاقات کا دن طے ہوا۔
وزیراعلی کے پی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو ملاقات کرانے کا کہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اسی روز گئے مگر ملاقات نہیں کرائی گئی، توہین عدالت کی درخواست دائر کی لیکن درخواست ہی نہیں لگی، توہین عدالت کی پرانی درخواستیں لگیں تو انہیں یک جنبش قلم نمٹا دیا گیا، ہائی کورٹ نے اپنے ہی آرڈر کی حکم عدولی پر کوئی ایکشن نہیں لیا جس پر سپریم کورٹ چلے گئے، طبی معائنے کے لیے بھی درخواستیں دائر کی گئیں لیکن درخواست پر سماعت نہیں ہو سکی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لئے ایک بند دروازہ ہے، یہاں ہم درخواستیں دائر کر سکتے ہیں لیکن اس پر سنوائی نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایک کیس سماعت کیلئے مقرر ہے، اس مقدمے کے حوالے سے بھی عدالت نے بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات کرنے کی ہدایات جاری کیں، میں نے کہا کہ ملاقات کے بغیر بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کیسے جواب داخل کرایا جا سکتا ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ میری ملاقات نہیں کروائی گئی مگر عدالت نے اس کیس میں بھی کاروائی کو آگے بڑھایا، عدالت کہہ رہی ہے کہ آپ ملاقات کے بغیر ہی جواب بھی داخل کریں اور بحث بھی کریں، کسی بھی فریق کو اس کا موقف بیان کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا چیف منسٹر نے فیصلہ کیا کہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندے کی حیثیت سے کورٹ میں کھڑے ہو کر پوچھیں گے، کیسز ختم ہونے پر چیف منسٹر نے بات کرنے کی کوشش کی مگر چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے، ہم یہاں سے سپریم کورٹ بھی جائیں گے، عمران خان کا مقدمہ قوم اور عوام کو لڑنا پڑے گا۔


