چین اور تنزانیہ نے بدھ کے روز دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دونوں ممالک کی ترقی کی خواہشات کی حمایت کے لئے نوجوانوں کے تبادلے، مہارتوں کی ترقی اور جدت طرازی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر نوجوانوں میں ترقی اور تبادلوں کے حوالے سے ’چین تنزانیہ مکالمہ‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تنزانیہ میں چین کی سفیر چھن مینگ جیان نے کہا کہ نوجوان دوطرفہ تعلقات کےمستقبل کی نمائندگی کرتے ہیں اور ایک مشترکہ مستقبل کے حامل چین افریقہ معاشرے کی تعمیر میں ایک اہم قوت ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): چھن مینگ جیان، چینی سفیر، تنزانیہ
’’حالیہ برسوں میں چین اور تنزانیہ کے درمیان نوجوانوں کے تبادلوں کی سرگرمیوں میں مسلسل تیزی آئی ہے۔ تنزانیہ کے نوجوانوں کی بڑی تعداد چینی زبان سیکھ کر اور فنی مہارتیں حاصل کر کے نہ صرف اپنی زندگی بدل رہی ہے بلکہ تنزانیہ کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔‘‘
تنزانیہ کی وزارتِ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی میں فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت کےڈائریکٹر فریڈرک سالوکِلے نے کہا کہ تنزانیہ چینی کمپنیوں، جامعات اور پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کے درمیان زیادہ مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): فریڈرک سالوکِلے، ڈائریکٹر، فنی تعلیم و پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت، وزارتِ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، تنزانیہ
’’یہ اجتماع خیالات کے تبادلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ تنزانیہ اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کو اپنے نوجوانوں کے لئے عملی مواقع میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے نوجوانوں کو علم اور مہارتیں حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ جدت کی راہ اپناتے ہیں، پیشہ ورانہ روابط استوار کرتے ہیں اور دونوں ممالک کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘
دارالسلام، تنزانیہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


