واشنگٹن (شِنہوا) فنانشل ٹائمز کے ایک سروے کے مطابق اکثر امریکی رائے دہندگان یہ شکایت کرتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان کی حالت پہلے سے خراب ہوئی ہے کیونکہ معاشی انتظامی امور اور زندگی گزارنے کے اخراجات کے باعث عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
لندن میں قائم ریسرچ فرم ’فوکل ڈیٹا‘ کے ذریعے کرائے گئے اس سروے میں معلوم ہوا کہ 53 فیصد سے زائد رجسٹرڈ رائے دہندگان کا ماننا ہے کہ جنوری 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے ان کی مالی حالت ابتر ہوئی ہے۔
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 57 فیصد آزاد رائے دہندگان اور خود کو ریپبلکن کہلانے والے تقریباً ایک چوتھائی ووٹرز نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے دور میں زیادہ معاشی مشکلات محسوس کر رہے ہیں۔
اس ملک گیر سروے نے ڈیموکریٹس کو روزگار اور معیشت سنبھالنے کے حوالے سے برتری دی ہے، یہ وہ شعبے ہیں جنہیں طویل عرصے سے ریپبلکنز کی مضبوطی تصور کیا جاتا رہا ہے۔
یہ سروے امریکی بیورو آف لیبر سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار جاری ہونے کے چند ہی دن بعد سامنے آیا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی میں امریکی افراط زر میں معمولی کمی آئی لیکن یہ اب بھی بلند سطح پر ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صارف قیمتوں کے اشاریے میں ماہانہ بنیاد پر 0.1 فیصد اور گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 3.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
بروکنگز انسٹیٹیوشن کے سینئر فیلو ڈیرل ویسٹ نے شِنہوا کو بتایا کہ مہنگائی کی شرح اجرتوں میں اضافے سے زیادہ ہے اور لوگوں کو اپنے بلوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ معاشی طور پر مقابلہ نہیں کر پا رہے اور خوراک، گیس اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کے بارے میں عام تاثر منفی ہے اور یہ درمیانی مدت کے انتخابات میں ریپبلکنز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
نیو ہیمپشائر کے سینٹ اینسلم کالج میں سیاسیات کے پروفیسر کرسٹوفر گالڈیری نے شِنہوا کو بتایا کہ معاشی اشاریوں سے قطع نظر ہم عوام میں ایک عمومی معاشی بے چینی دیکھ رہے ہیں۔


