القدس (لارڈ میڈیا) اسرائیلی آبادکاروں کے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے پر فلسطینی حکام نے شدید احتجاج کیا ہے۔ فلسطین کے گورنریٹ برائے القدس کے مطابق یہودی مذہبی دن تشا بِآو کے آغاز سے اب تک 2300 سے زائد اسرائیلی آبادکار مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہو چکے ہیں۔
مسجدِ اقصیٰ کے احاطے کے اسٹیٹس کو انتظام کے تحت، جسے یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں، وہاں صرف مسلمانوں کو عبادت کی اجازت ہے۔ یہ مقام اسلام کا تیسرا مقدس ترین اور فلسطینی قومی شناخت کی علامت ہے جبکہ یہودی مذہب میں بھی انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے۔
تشا بِآو 70 عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں قدیم ہیکل کی تباہی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ فلسطینی گورنریٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے تقریباً 150 افراد کے گروہوں کی صورت میں آبادکاروں کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی، جہاں انہوں نے مذہبی رسومات ادا کیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مسجدِ اقصیٰ کے دروازوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں سخت پابندیاں عائد کر دیں اور اکثر فلسطینی نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔ گورنریٹ نے کہا کہ صرف چند فلسطینی فجر کی نماز ادا کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں سے بعض کو بعد میں اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔


