منیلا (لارڈ میڈیا): نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر تنازع کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان نے منیلا پلان آف ایکشن 2036 پر مؤثر عملدرآمد کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور عالمی و علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
اسحاق ڈار نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے فعال سفارتی کردار اور ایران امریکا مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے غزہ میں انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے۔
نائب وزیراعظم کی منیلا میں برطانیہ، آسٹریلیا، عمان کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا گیا۔


