بیجنگ(شِنہوا)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ تخفیف اسلحہ کانفرنس میں امریکہ اور متعلقہ ممالک کی جانب سے جاری کیا گیا نام نہاد مشترکہ بیان محض سیاسی مقاصد کے تحت جاری کیا گیاہے اور چین نے متعلقہ ممالک پر زور دیا کہ وہ کثیرالجہتی اسلحہ کنٹرول کے طریقہ کار کا غلط استعمال بند کریں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، 11 اگست کو تخفیف اسلحہ کانفرنس میں امریکہ اور متعلقہ ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ بحرالکاہل کے علاقے میں حالیہ میزائل تجربات میں پیشگی اطلاع دینے کے لیے "معیاری طریقہ کار” پر عمل نہیں کیا گیا۔اس سے غلط اندازے کے خطرات میں اضافہ اور خطے کے استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔
بیان میں متعلقہ ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ بیلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ کے خلاف ہیگ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کریں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مشترکہ بیان جولائی میں چین کی جانب سے آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے سے متعلق ہے۔
ایک سوال کے جواب پر ترجمان گو جیاکن نے کہا کہ تخفیف اسلحہ کانفرنس میں امریکہ اور متعلقہ ممالک کا نام نہاد مشترکہ بیان، جس میں بیلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ کے خلاف ہیگ ضابطہ اخلاق کو بنیاد بنایا گیا اور چین کے میزائل تجربے کی جانب اشارہ کیا گیا، محض سیاسی مقاصد کے تحت جاری کیا گیا اور اس سے ان ممالک کی منافقت اور دوہرے معیار پوری طرح عیاں ہوتے ہیں۔
گو نے مزید کہا کہ چین متعلقہ ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ کثیرالجہتی اسلحہ کنٹرول کے طریقہ کار کا غلط استعمال بند کریں، غیر معقول محاذ آرائی کی جگہ مخلصانہ مذاکرات کو فروغ دیں اور اسلحہ کنٹرول کے شعبے میں مذاکرات اور تبادلوں کو بہتر بنانے کے لیے ضروری حالات پیدا کریں۔


