بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ چین جنوبی بحیرہ چین سے متعلق 2016 کے نام نہاد ثالثی فیصلے کے 10 سال مکمل ہونے کے موقع پر جاپان کے وزیر خارجہ توشی متسو موتیگی کے بیان پر شدید افسوس کا اظہار کرتا ہے اور اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مذکورہ بیان میں غیر قانونی قرار دیئے گئے اس نام نہاد "ثالثی فیصلے” کی کھلے عام حمایت کی گئی ہے، جنوبی بحیرہ چین میں چین کے قانونی دعوؤں پر حملہ کیا گیا ہے اور جاپان کو غلط طور پر "جنوبی بحیرہ چین استعمال کرنے والا ایک جائز فریق” قرار دیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ چین کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا بند کرے، جنوبی بحیرہ چین کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے سے باز رہے اور خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے اقدامات ترک کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین جنوبی بحیرہ چین میں اپنی علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرتا رہے گا۔
ترجمان نے کہا کہ چین کے قانونی حقوق و مفادات کو چیلنج کرنے اور جنوبی بحیرہ چین میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔


